LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1964 پوائنٹس گر گیا 11 اکتوبر جمہوریت کا سیاہ ترین دن، کے پی کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں: بیرسٹر گوہر علی خان ہمارا واسطہ آئین شکنوں سے ہے، حالات بلوچستان میں خراب ہیں تو وہاں ایمرجنسی لگائیں: علامہ راجہ ناصر عباس دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی دھاندلی سے عوامی منڈیٹ چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، ملک گیر پرامن احتجاج کا اعلان: محمود خان اچکزئی کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا تربیتی طیارہ حادثے کا شکار، دونوں پائلٹ شہید ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دے سکتے ہیں، سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: گورنر کے پی

ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری

Web Desk

12 October 2026

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ پاکستان تحریک انصاف کی ضد، عدم تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں وفاق کا ساتھ نہ دینے کے باعث کیا گیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ اس آئینی اقدام کی پارلیمان سے توثیق کرائی جائے گی اور ایمرجنسی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (APC) میں حکومتی نمائندوں کو مدعو کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کا مکمل ڈیٹا اپوزیشن کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے صوبے کے 12 اضلاع میں خصوصی انتظامی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے اور علاقوں کو کلیئر کر کے سول انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے قومی سلامتی پر سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔