LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران امریکا مذاکرات جاری، معاہدے کی امید ہے، قطری وزارت خارجہ میر رضا علی کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی، جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش 2024 کے انتخابات ہمیں قبول نہیں، ملک میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں: مولانا فضل الرحمن حکومتی اقدامات کے باعث پنجاب خواتین کیلئے محفوظ صوبہ بن چکا ہے: مریم نوازحکومتی اقدامات کے باعث پنجاب خواتین کیلئے محفوظ صوبہ بن چکا ہے: مریم نواز شنگھائی تعاون تنظیم پائیدار اقتصادی نمو میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے: اسحاق ڈار سندھ کابینہ کا میر رضا کیس کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا: طارق فضل چودھری وزیراعظم دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کیلئے تیار ہیں: رانا ثنا ملتان: مزدور نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کا کیس، ملزم توقیر عباس کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پیشی پر وکلاء کا تشدد اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی، چاندی کا بھاؤ مستحکم تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیشرفت، امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد، صدر بھی آج پاکستان پہنچیں گے 13 سال کا گند تین دن میں صاف نہیں ہو سکتا، وقت لگے گا: فیصل کریم کنڈی امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت انسانی حقوق ایوارڈ کے لیے نامزد

خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا: طارق فضل چودھری

Web Desk

20 October 2026

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صدارتی فرمان کے تحت گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے نافذ کردہ اقدامات کی پارلیمنٹ سے توثیق کرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل فعال ہے اور صوبے کے 12 اضلاع میں مقامی مشران پر مشتمل کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ کے پی کی سابق حکومت اور وزیراعلیٰ نے دہشت گردی اور افغان پالیسی پر وفاق سے تعاون سے انکار کیا، جس کے باعث یہ سخت آئینی اقدامات ناگزیر ہوئے۔ انہوں نے بھارت اور غیر ملکی عناصر کی جانب سے بی ایل اے اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کی مذمت کرتے ہوئے تمام اپوزیشن جماعتوں کو دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کی دعوت دی۔