متعدد قتل کے مجرم کو 15 سال بعد رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے، پنجاب پروسیکیوشن کا سپریم کورٹ میں موقف
Web Desk
19 October 2026
سپریم کورٹ کے 7 رکنی لارجر بینچ کے روبرو ایک سے زائد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کے بیک وقت یا یکے بعد دیگرے نفاذ اور عمر قید کی حقیقی مدت سے متعلق اہم قانونی سوالات پر سماعت جاری ہے۔ اس دوران پنجاب حکومت نے عدالت میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین و سفاکانہ جرائم میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا حکم دیا جانا چاہیے۔ پنجاب پروسیکیوشن کے مطابق معافیوں اور تخفیف کے بعد عملی طور پر عمر قید کی مدت 15 سال رہ جاتی ہے، لہذا متعدد قتل میں ملوث مجرم کو اس بات کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ وہ اتنی مدت بعد رہا ہو جائے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام سزاؤں کو ایک ہی مدت میں ضم کرنے سے اضافی جرائم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے اور نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کے لیے ہر جرم کی الگ سزا ہونی چاہیے۔ کیس کی آئندہ سماعت 10 نومبر کو ہوگی۔
متعلقہ عنوانات
اقوام متحدہ کے وفد کا دورہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، نظام میں بہتری پر تبادلہ خیال
19 October 2026
پاک امریکا تعلقات پر سیمینار، مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنے پر زور
19 October 2026
حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا: ترجمان پاک فوج
19 October 2026
وفاق کے ساتھ چلیں گے، سب صوبوں کے ساتھ ایک پیج پر ہوں گے: فیصل کریم کنڈی
19 October 2026
آئی ایم سی اوور 40 کرکٹ ورلڈکپ: پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی
19 October 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایس سی او اجلاس میں شرکت کیلئے تاجکستان روانہ
19 October 2026
سرکاری حج سکیم: واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کیلئے ایک دن باقی
19 October 2026
میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ ملی تو عدالت سے رجوع کریں گے: جبران ناصر
19 October 2026