LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کے وفد کا دورہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، نظام میں بہتری پر تبادلہ خیال پاک امریکا تعلقات پر سیمینار، مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنے پر زور حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا: ترجمان پاک فوج وفاق کے ساتھ چلیں گے، سب صوبوں کے ساتھ ایک پیج پر ہوں گے: فیصل کریم کنڈی متعدد قتل کے مجرم کو 15 سال بعد رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے، پنجاب پروسیکیوشن کا سپریم کورٹ میں موقف آئی ایم سی اوور 40 کرکٹ ورلڈکپ: پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایس سی او اجلاس میں شرکت کیلئے تاجکستان روانہ سرکاری حج سکیم: واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کیلئے ایک دن باقی میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ ملی تو عدالت سے رجوع کریں گے: جبران ناصر بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص سے علاج کے بہتر نتائج ممکن ہیں، مریم نواز جسٹس حسن اظہر رضوی نے بطور قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت حلف لیا چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا عالمی دن، خواتین بروقت طبی مشورہ لیں: صدر و وزیراعظم کی اپیل حوثیوں کے خلاف آپریشن فجرِ یمن میں 24 گھنٹوں کے دوران 1326 حملے یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آسٹرین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ

متعدد قتل کے مجرم کو 15 سال بعد رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے، پنجاب پروسیکیوشن کا سپریم کورٹ میں موقف

Web Desk

19 October 2026

سپریم کورٹ کے 7 رکنی لارجر بینچ کے روبرو ایک سے زائد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کے بیک وقت یا یکے بعد دیگرے نفاذ اور عمر قید کی حقیقی مدت سے متعلق اہم قانونی سوالات پر سماعت جاری ہے۔ اس دوران پنجاب حکومت نے عدالت میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین و سفاکانہ جرائم میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا حکم دیا جانا چاہیے۔ پنجاب پروسیکیوشن کے مطابق معافیوں اور تخفیف کے بعد عملی طور پر عمر قید کی مدت 15 سال رہ جاتی ہے، لہذا متعدد قتل میں ملوث مجرم کو اس بات کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ وہ اتنی مدت بعد رہا ہو جائے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام سزاؤں کو ایک ہی مدت میں ضم کرنے سے اضافی جرائم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے اور نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کے لیے ہر جرم کی الگ سزا ہونی چاہیے۔ کیس کی آئندہ سماعت 10 نومبر کو ہوگی۔