LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف نیویارک: واشنگٹن اسکوائر پارک میں میئر زوہراں ممدانی سے مشابہت رکھنے والوں کے مقابلے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا

سوڈان کے بازار میں خونی ڈرون حملہ، خواتین اور بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق

Web Desk

17 February 2026

خرطوم، سوڈان: سوڈان کے وسطی علاقے میں ایک مصروف بازار پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپ ایمرجینسی لائرز نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ شمالی کردفان کے علاقے سوداری کے قریب الصفیہ مارکیٹ میں کیا گیا، جو اس وقت عام شہریوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔یہ علاقہ اس وقت سوڈانی فوج اور نیم فوجی فورس آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تین سال سے جاری اس خانہ جنگی میں دونوں فریق فضائی حملے کر رہے ہیں۔سوداری شمالی کردفان کا ایک دور افتادہ قصبہ ہے جو ریاستی دارالحکومت الابیض سے تقریباً 230 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ کردفان کا علاقہ مشرق سے مغرب تک پھیلے اہم زمینی راستے کی وجہ سے جنگ کا اہم محاذ بن چکا ہے، جو دارفور کو خرطوم سے ملاتا ہے۔گزشتہ ہفتے بھی ایک اسکول پر حملے میں دو بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک اور حملے میں اقوام متحدہ کے امدادی گودام کو شدید نقصان پہنچا۔اپریل 2023 سے جاری اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے باعث سوڈان دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار ہو رہا ہے۔ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، جہاں فوج وسطی، شمالی اور مشرقی علاقوں پر قابض ہے جبکہ آر ایس ایف مغربی علاقوں اور بعض جنوبی حصوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔