LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ربیع 2026-27ء کے لیے 22 فیصد پانی کی کمی کا خدشہ: ارسا نے صوبوں کا کوٹہ مقرر کر دیا مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن کا آل پارٹیز کانفرنس اور مذاکرات پر اتفاق: پی ٹی آئی مارچ کو جمہوری حق قرار دے دیا پٹرول کی قیمت میں 1.19 روپے اضافہ، ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.91 روپے فی لیٹر سستا صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات: کے پی لانگ مارچ کی صورتحال اور مذاکراتی کمیٹی کی بریفنگ پر تبادلہ خیال سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکی محکمہ انصاف کا ٹرمپ انتظامیہ کے دوران سب سے بڑا اقدام، سنگین جرائم میں ملوث 40 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں تین وزراء کے محکموں میں ردوبدل ایران جنگ: برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی قطر کا سعودی خودمختاری کے تحفظ اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی حمایت کا اعلان ایرانی افواج کی انگلیاں ٹرگر پر،دشمن کی غلطی کے منتظر ہیں: ابراہیم عزیزی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، حرمین شریفین کے دفاع کیلئے مسلم امہ کا مضبوط اتحاد اپوزیشن اتحاد کی آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات طے، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہوگی

پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف

Web Desk

31 August 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک کے سماجی و سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمران اشرافیہ کے ہر طبقے کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی، تاہم صرف بیوروکریسی ہی واحد شعبہ ہے جو ہمیشہ احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ کرپشن، بدانتظامی اور دیگر سنگین الزامات پر حکمران طبقے کے ہر گروہ کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، لیکن بیوروکریسی کا کبھی احتساب نہیں ہوا۔ انہوں نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام پاکستانیوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ ملک پر سویلین حکومتوں کے دور میں بھی درحقیقت بیوروکریٹس حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ سابق گورنر جنرل غلام محمد، سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی، اور سابق صدور میجر جنرل (ر) سکندر مرزا اور غلام اسحاق خان بنیادی طور پر بیوروکریٹس تھے، جنہوں نے سیاست دانوں کے پاس اقتدار ہوتے ہوئے بھی فیصلے کیے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بیوروکریسی کو اس طاقتور موقع کی فراہمی میں سیاست دانوں کی اپنی نااہلی اور باہمی اختلافات کا بڑا ہاتھ رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ بیوروکریٹس کو محض تنقید کا نشانہ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ اگر سیاست دان اپنی اصلاح کر لیں اور جمہوری رویے اپنائیں تو بیوروکریسی میں اصلاحات اور احتساب کا نظام خود بخود قائم ہو جائے گا۔