LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ ہی ہماری انتخابی شکست کی وجہ بنی: جے ڈی وینس کا بھی اعتراف امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر اور راشدہ طلیب دوبارہ منتخب امریکی انتخابات کے نتائج کے اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کمی متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے ساحل کے قریب زلزلے کے جھٹکے محسوس قلعہ عبداللہ کا واقعہ اسلامی، پشتون اور بلوچ روایات کے منافی ہے: وزیر داخلہ بلوچستان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کردی گجرات میں گیس لیکیج سے آتشزدگی کے باعث جھلسنے والے تینوں افراد جاں بحق اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال عوام مجھ سے تنگ ہوئے تو اسرائیل جا کر وزیراعظم بن جاؤں گا، ٹرمپ کا دلچسپ بیان وزیراعلیٰ کوغیر معمولی محنت، انتظامی صلاحیت دوسروں سے ممتاز کرتی ہے: مریم اورنگزیب 28 لاکھ 7 ہزار 250 افغان شہری وطن واپس بھجوائے جا چکے ہیں: محکمہ داخلہ پنجاب حکومتی کمیٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج ہو گا سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 نافذ: بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ ای سی سی نے اربوں روپے کے دفاعی اورآبی منصوبوں کی منظوری دے دی اسحاق ڈار سے ایرانی سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 نافذ: بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ

Web Desk

4 November 2026

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026ء کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد سندھ اسمبلی سے منظور شدہ بلدیاتی ترامیم گورنر سندھ کی حتمی توثیق کے بعد صوبے بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ ترمیمی ایکٹ کی کاپی میئر کراچی، ڈپٹی میئر اور تمام بلدیاتی نمائندوں کو ارسال کر دی گئی ہے۔

نئے قانون کی رو سے بلدیاتی کونسلوں کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ نیا میئر یا چیئرمین منتخب ہونے تک سبکدوش ہونے والے میئر یا چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین کو کونسل کے اجلاسوں کی صدارت اور کارروائی چلانے کے مکمل اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں، اور ہر 3 ماہ بعد کونسل کے اجلاسوں کا انعقاد اور سال میں کم از کم ایک بار کارکردگی کا انسپکشن لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ترمیمی ایکٹ کے تحت شہریوں کے تنازعات باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے یونین کونسل، ٹاؤن اور میونسپل کمیٹیز کی سطح پر 90 روز کے اندر 3 رکنی ‘مصالحتی فورم’ کا قیام واجب کیا گیا ہے۔ نیز، بلدیاتی نمائندوں اور پولیس کے درمیان امن و امان کے لیے باہمی رابطہ کاری کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے، جبکہ یونین کونسلوں کو ٹھوس کچرے کی صفائی کی نگرانی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو غیر قانونی تعمیرات کی بروقت نشاندہی کرنے کا قانونی پابند بنایا گیا ہے۔