LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کا آن لائن اشتہارات کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنیوالوں کی جاسوسی کا انکشاف پاکستان میں ایوی ایشن سکیورٹی عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کیلئے 12 ارب روپے کا منصوبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے دور میں تعینات قانونی مشیروں کو ہٹانے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران پر جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان، زمینی فوج بھیجنے کا امکان بھی مسترد کر دیا آبنائے ہرمز کی مکمل نگرانی جاری، ایرانی فوج جنگ کیلئے تیار ہے: امیر حاتمی امریکی رکن کانگریس الہان عمر کیخلاف تحقیقات، موبائل ضبط، اہلخانہ سمیت متعدد افراد کو سمن جاری شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی آج 75 ویں برسی منائی جا رہی ہے حرمین شریفین کے دفاع کے لئے ہم متحد ہیں: ترجمان سعودی فوجی اتحاد روسی فوج کا خارکوف میں 2 آبادیوں پر کنٹرول، یوکرینی فوج کو 1,105 اہلکاروں کا نقصان سانحہ پشاور: تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ کمشنر کو جمع کرا دی پاکستان، جنوبی کوریا اور مصر کے درمیان بڑی سرمایہ کاری کی تیاریاں، دبئی میں اہم ملاقات پیپلزپارٹی نے کوشش کی مذاکرات کی میز پر معاملات حل کر لئے جائیں: شیری رحمان ریڈیو فری یورپ نے طالبان رجیم کے واخان منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیدیا البانیہ میں حکومت مخالف احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل، 29 افراد زخمی سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، حقِ دفاع کی توثیق

پیپلزپارٹی نے کوشش کی مذاکرات کی میز پر معاملات حل کر لئے جائیں: شیری رحمان

Web Desk

16 October 2026

پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی سينئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت کو بھی مذاکرات کے راستے پر لانے کے لیے قائل کیا ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دیے گئے 1973ء کے آئین نے ہی ملک کو متحد رکھا ہوا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان دوبارہ کسی سیاسی یا آئینی تجربے سے دوچار ہو۔ انہوں نے سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی ہمارے لیے سرخ لکیر (Red Line) ہے۔

شیری رحمان نے یاد دہانی کرائی کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت سمیت ملک میں ہونے والے متعدد بڑے سانحات کے پیچھے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی تقسیم کی سیاست ترک کر کے تعلیم، غربت کے خاتمے اور دیگر اہم عوامی مسائل پر متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔