LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ حکومت کا انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی نئی منزل بننے کی جانب گامزن چین کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کے قیام کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ سعودی اتحاد نے ینبع کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل اور بحیرہ احمر میں 2 کروز میزائل تباہ کردیے ٹیسلا کی فلائنگ کار نے ’اڑان‘ بھر لی، 2028 میں پروڈکشن کا اعلان افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے: سید ابرار حسین ایک ہزار ڈرونز سے حملے، پوتن کا مقصد یوکرین کا مکمل خاتمہ ہے: زیلنسکی امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان فریحہ ابراہیم کی ہاسٹل میں موت، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پر 2 کروڑ روپے جرمانہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ 18 فیصد اضافہ، درآمدی بل بھی 11 فیصد بڑھ گیا کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ دہشت گرد زاہد گل ہلاک چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لندن میں آنریری بینچر کا اعزاز دے دیا گیا گلشن حدید میں گھر سے 5 لاشیں ملنے کا معاملہ، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی اسحاق ڈار کی سول ایوی ایشن کے جاری منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

شیخ حسینہ، بہن ریحانہ اور بھانجی ٹیولپ صدیق کو کرپشن پر سزائیں

Web Desk

1 December 2025

ڈھاکہ کے سپیشل جج کورٹ نمبر 4 نے سرکاری رہائشی پلاٹس کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق ہائی پروفائل کرپشن کیس میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور بھانجی برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنا دیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ کو 5 سال، شیخ ریحانہ کو 7 سال اور ہیمسٹیڈ اینڈ کلبرن کی ایم پی ٹیولپ صدیق کو 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ٹیولپ صدیق پر ایک لاکھ بنگلہ دیشی ٹکا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 6 ماہ کی سادہ قید ہوگی، شیخ ریحانہ پر بھی یہی مالی جرمانہ عائد کیا گیا۔

کرپشن کیس کا مرکز سرکاری پورباچال نیو ٹاؤن پروجیکٹ میں مبینہ طور پر اثر و رسوخ کے استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے رہائشی پلاٹس کی الاٹمنٹ ہے، بنگلہ دیش کے اینٹی کرپشن کمیشن نے یہ مقدمہ 13 جنوری کو درج کیا تھا۔

کل 17 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی جن میں سے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس اور سرکاری ترقیاتی ادارے راجُک کے سینیئر افسران سمیت 14 ملزمان کو بھی پانچ 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔