LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ

پی ٹی آئی رہنماؤں پر منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات

Web Desk

23 November 2025

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں منشیات کے منظم دھندے میں پی ٹی آئی کے بعض ارکان اور وزرا ملوث ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ضلع خیبر کو منشیات کا گڑھ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وادیٔ تیراہ میں منشیات کے بڑے بڑے کارخانے قائم ہیں، جن سے ملک بھر میں منشیات سپلائی کی جاتی ہے۔اختیار ولی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملکیتی زمینوں پر بھی منشیات کی تیار فصلیں موجود ہیں اور اس مکروہ دھندے سے حاصل ہونے والا بھتہ مختلف متعلقہ افراد تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم ریاست کے خلاف حملوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کے مطابق سابق وزرائے اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور محمود خان بھی اس غیر قانونی کاشت اور کاروبار کو روکنے میں ناکام رہے، اور یہ دھندہ بدستور طاقتور نیٹ ورک کے تحت جاری ہے۔