LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم لیوی کو مکمل ختم کیا جائے: حافظ نعیم اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن نقوی پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان6 کروڑ 50 لاکھ یورو کے 3 اہم ترقیاتی معاہدوں پر دستخط بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات

پی ٹی آئی رہنماؤں پر منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات

Web Desk

23 November 2025

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں منشیات کے منظم دھندے میں پی ٹی آئی کے بعض ارکان اور وزرا ملوث ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ضلع خیبر کو منشیات کا گڑھ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وادیٔ تیراہ میں منشیات کے بڑے بڑے کارخانے قائم ہیں، جن سے ملک بھر میں منشیات سپلائی کی جاتی ہے۔اختیار ولی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملکیتی زمینوں پر بھی منشیات کی تیار فصلیں موجود ہیں اور اس مکروہ دھندے سے حاصل ہونے والا بھتہ مختلف متعلقہ افراد تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم ریاست کے خلاف حملوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کے مطابق سابق وزرائے اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور محمود خان بھی اس غیر قانونی کاشت اور کاروبار کو روکنے میں ناکام رہے، اور یہ دھندہ بدستور طاقتور نیٹ ورک کے تحت جاری ہے۔