LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک بھر کے 79 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا فیصلہ، پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت آغاز ہوگا ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکی فضائیہ کے کارگو طیارے بیجنگ پہنچ گئے دوصوبے بدامنی کا گڑھ بن گئے، کیاہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے؟ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں15روز کیلیے دفعہ 144نافذ، اڈیالہ اور اطراف کا علاقہ ریڈزون قرار ایک ہفتے میں عمران خان کا علاج اورملاقات نہ ہوئی توپارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے، محموداچکزئی آبنائے ہرمزکھولنےکیلیےپروجیکٹ فریڈم وسیع پیمانے پر بحال کرسکتے ہیں، ٹرمپ  صدر زرداری سے وزیرِاعظم شہبازشریف کی ملاقات، صدر کی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت برطانیہ نے ایران سےتعلق رکھنے والے 12افراد اوراداروں پرپابندیاں عائد کردیں آئی پی پیزکو آئندہ کےلیے دفن کردیا، بجلی سستی کرنے جارہےہیں، اویس لغاری ایرانی وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب سے رابطہ، پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل پر گفتگو سعودی وزیرخارجہ کا ڈار سے رابطہ، خطے میں امن کیلیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی یقین دہانی بنوں حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج، ڈی مارش کر دیا کچے سے چولستان تک ریلیف: مریم نواز کی زیرِ صدارت پنجاب کابینہ کے 34ویں اجلاس میں بڑے فیصلوں کی منظوری پیٹرول زیادہ مہنگا ہونے کہ وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے، حکام پیٹرولیم ڈویژن حکومت اور اپوزیشن میں رابطے، وزیراعظم کی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت

پی ٹی آئی رہنماؤں پر منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات

Web Desk

23 November 2025

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں منشیات کے منظم دھندے میں پی ٹی آئی کے بعض ارکان اور وزرا ملوث ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ضلع خیبر کو منشیات کا گڑھ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وادیٔ تیراہ میں منشیات کے بڑے بڑے کارخانے قائم ہیں، جن سے ملک بھر میں منشیات سپلائی کی جاتی ہے۔اختیار ولی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملکیتی زمینوں پر بھی منشیات کی تیار فصلیں موجود ہیں اور اس مکروہ دھندے سے حاصل ہونے والا بھتہ مختلف متعلقہ افراد تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم ریاست کے خلاف حملوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کے مطابق سابق وزرائے اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور محمود خان بھی اس غیر قانونی کاشت اور کاروبار کو روکنے میں ناکام رہے، اور یہ دھندہ بدستور طاقتور نیٹ ورک کے تحت جاری ہے۔