LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلان حماس کی کارکنوں کو مقبوضہ مغربی کنارے یہودی قبضہ گیروں کیخلاف متحرک ہونے کی ہدایت روس کے زیر قبضہ اولیشکی میں شہری بھوک اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں: یوکرین چین: بچوں کو سیسہ آلود خوراک دینے کا الزام، نرسری کی مالکن سمیت 5 ارکان کو قید کی سزائیں مولانا کو خیبر پختونخوا میں حصہ نہیں ملے گا: طلال چودھری پیپلزپارٹی کی بھی مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر شدید تنقید شمال مشرقی سعودی عرب میں ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملہ سانحہ کارساز کو 19 برس بیت گئے، المناک واقعہ کا دکھ آج بھی تازہ مودی کی بدترین پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوانوں کی آواز بیرون ملک بھی پہنچ گئی اسلام آباد میں بنگلہ دیشی ثقافتی شام کا انعقاد، بنگالی موسیقی اور رقص توجہ کا مرکز رہے بابوسر ٹاپ روڈ تین روزہ بندش کے بعد ٹریفک کے لیے بحال بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کا نوٹم جاری سان فرانسیسکو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد، ٹیکنالوجی تعاون پر اتفاق اسحاق ڈار کی تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے قابل عمل تجاویز تیار کرنے کی ہدایت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا: نواز شریف

قومی سلامتی بالاتر، خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجئے: سرفراز بگٹی

Web Desk

17 October 2026

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیۃ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سیاسی بصیرت کا احترام کرتے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومتوں کا تقابل کرتے وقت زمینی حقائق اور دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جدوجہد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابق ٹوئٹر) پر جاری اپنے اہم بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف یکصدا ہونا قومی مفاد کی اعلیٰ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری، بی این پی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل، جے یو آئی اور نیشنل پارٹی سمیت تمام پارلیمانی جماعتیں امن و امان کے مسئلے پر ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں اور اپوزیشن کو ہر اہم فیصلے پر اعتماد میں لیا جاتا ہے۔

سرفراز بگٹی نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سکیورٹی فورسز اور شہدا کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی اور معاشی استحکام ناممکن ہے، اس لیے قومی سلامتی سے جڑے حساس معاملات کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ “اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے۔