LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی خطے کے ممالک کو امریکا پر بھروسہ کرنے پر سنگین نتائج کی وارننگ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا عمرہ زائرین کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے: سعودیہ سعودی مفتی اعظم کی حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بیرون ملک دوروں کی منظوری دیدی شرجیل میمن کا پاک فوج کے تربیتی طیارے کو حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار ملتان میں گندم خوردبرد کیس میں پاسکو کے افسران سمیت 6 ملزمان گرفتار حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے: علی محمد خان عمان کے وزیر خارجہ پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کریں گے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت تھی: مصطفیٰ کمال سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بدعنوانی، نیب کراچی نے تحقیقات شروع کردیں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد جاری رکھیں گے، برطانوی وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ ہاؤس پہنچ گئے، سیاسی سوال کا جواب دینے سے گریز پاکستان روس تعلقات میں نئے باب کا آغاز، روسی وزیر داخلہ پاکستان پہنچ گئے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج طلب کر لیا

کے پی اور بلوچستان کا کوئی موازنہ نہیں، وفاق کے آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی

Web Desk

12 October 2026

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سیکیورٹی حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے آئین کے مطابق اقدام اٹھایا ہے اور اس میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا گیا، لہذا بلوچستان حکومت وفاق کے اس اقدام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی محض امن و امان کے مسئلئے پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے آئینی و سیکیورٹی کردار ادا نہ کرنے پر نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کی حاکم جماعت نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف نرم رویہ اپنایا اور سیکیورٹی کے لیے مختص سرکاری فنڈز کو سوشل میڈیا ٹیمیں بنانے پر خرچ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہے اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوال اٹھایا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان دہشت گردی کی زد میں آئے لیکن ایک مخصوص جماعت پر کبھی حملہ نہیں ہوا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے روابط دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قانون سازی، بیانیے کی تشکیل اور عملی میدان میں سیکیورٹی فورسز کو مکمل صوبائی معاونت حاصل نہ ہو۔ میر سرفراز بگٹی نے اعادہ کیا کہ بلوچستان اسمبلی کے تمام اراکین دہشت گردی کے خاتمے اور سیکیورٹی فورسز کی حمایت میں ایک پیج پر ہیں۔