LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے معاہدے میں تمام فریقین کے خدشات دور کرنا ضروری ہیں: قطر یقین ہے آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا: عباس عراقچی ٹرمپ نے ایران کیخلاف کوئی اقدام کیا تو خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: ابراہیم عزیزی وفاقی حکومت نے گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان مسترد کردیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو پانچ روز بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا ریلوے کوچز کے پرزوں کی بروقت خریداری نہ ہونے پر وفاقی وزیر برہم، انکوائری کا حکم استنبول میں سیلاب سے جانی نقصان پر شہباز شریف کا اظہار افسوس گورنر پنجاب نے اپنی استاد کو گورنر ہاؤس میں اپنی کرسی پر بٹھا دیا نشے کی حالت میں خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے والا پولیس اہلکار گرفتار پٹرول مزید 3 روپے 93 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت برقرار فضل الرحمٰن سے دہشتگردوں کے پشت پناہوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی: مریم نواز پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا امریکا ایران جنگ سے عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا سندھ حکومت کا انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی نئی منزل بننے کی جانب گامزن

پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا

Web Desk

16 October 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا (Maria Zakharova) نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کی روس مخالف اور امتیازی پالیسیوں کے باوجود، ماسکو پرامن سوچ رکھنے والے عام یورپی شہریوں کے روس میں داخلے پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

ماسکو میں میڈیا بریفنگ کے دوران ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس یورپی حکمرانوں کی پالیسیوں کا بدلہ یورپ کے عام شہریوں کو نشانہ بنا کر نہیں لے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی ممالک میں عام شہریوں کی جانب سے روسی زبان اور تعلیمی اداروں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، اور رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران مختلف ممالک میں قائم 2,000 سے زائد یورپی شہریوں نے بیرونِ ملک قائم روسی مراکز سے روسی زبان کے کورسز مکمل کیے ہیں۔

روس اور یورپی یونین کے درمیان انرجی پارٹنرشپ پر بات کرتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ برسلز کے موجودہ منفی رویے اور سیاسی محاذ آرائی کو دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں روس اور یورپی یونین کے درمیان مکمل توانائی تعاون (Energy Cooperation) کی بحالی کے امکانات انتہائی محدود ہیں، کیونکہ یورپی یونین کی موجودہ قیادت باہمی فائدے پر مبنی تعلقات کے بجائے تصادم کی پالیسی پر گامزن ہے۔