LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

روس کا یکم اپریل سے عالمی سطح پر پیٹرول سپلائی بند کرنے کا اعلان

Web Desk

29 March 2026

ماسکو: روس نے یکم اپریل سے دنیا کو پیٹرول کی فراہمی پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہنے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑے گا جو روس کے ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر کیا ہے۔ روسی حکومت کا مقصد اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنا اور اپنے عوام و صنعتوں کے لیے سستے پیٹرول کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے تاکہ ملک میں مہنگائی قابو میں رہے۔

روس دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک اور وہ ممالک جن کے ساتھ روس کے خصوصی معاہدے ہیں، اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ باقی دنیا کے لیے اس فیصلے کے نتیجے میں پیٹرول کی عالمی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ یہ فیصلہ گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر کھیتی کے موسم اور ریفائنریز کی دیکھ بھال کے دوران پیٹرول کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر۔