عسکری و سیاسی قیادت نے دھرنے، مارچ اسلام آباد سے دور رکھنے کا فیصلہ کر لیا: رانا ثنا
Web Desk
3 October 2026
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت نے باہمی مشاورت سے یہ پالیسی طے کی ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بجائے دیگر شہروں میں ہونے چاہئیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اگر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنا ہی ہے تو وہ پشاور، مردان، لاہور یا کراچی میں کرے، لیکن اسلام آباد میں دھرنوں اور انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ سیاسی مذاکرات پر مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) کو کوئی اعتراض نہیں اور صدر و وزیراعظم کی ہدایت پر شروع ہونے والے اس عمل میں تمام متعلقہ اداروں کو آن بورڈ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اہم اجلاسوں سے غائب رہتے ہیں؛ اگر ان کا کوئی نقطہ نظر ہے تو انہیں وفاق کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ صوبائی حکومت کی عدم تعاون اور امن و امان کے شدید خطرات کے پیشِ نظر آئینی طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے ناپسندیدہ اختیارات موجود ہیں، اور اگر حالات ناگزیر ہو گئے تو وفاق یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔ واضح رہے کہ سیاسی تناؤ کو ختم کرنے کے لیے سپیکر چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
متعلقہ عنوانات
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم
3 October 2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان
3 October 2026
حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی
3 October 2026
وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے
3 October 2026
حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان
3 October 2026
مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری
3 October 2026
ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب
3 October 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد
3 October 2026