LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان بیلاروسی وفد کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات محسن نقوی، طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی ملاقات صومالی بحری قزاقوں سے بازیاب تین پاکستانی کراچی پہنچ گئے ایران افزودگی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، ایرانی عہدیدار عالمی مسائل کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کا کردار مزید اہم ہو گیا: اسحاق ڈار سینیٹر فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی ہمسایہ ممالک سے مذاکرات جاری، دشمن کو مایوس کرینگے: مسعود پزشکیان ایرانی اسپیکر کا داخلی سکیورٹی اور معاشی استحکام مزید مضبوط بنانے پر زور حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی: طارق فضل چودھری فیلڈ مارشل سے انتونیو گوتریس کی ملاقات: سکیورٹی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال ایران نے ہتھیاروں کی رینج بڑھانے کی پالیسی واضح کردی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے رفقا کی فہرست جیل حکام کو ارسال پاکستان نیوی کی بحیرہ عرب میں بڑی کارروائیاں، 96 ملین ڈالر مالیت کی منشیات برآمد

پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں 15 سال بعد بھرتیوں کا فیصلہ

Web Desk

21 August 2026

لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے تعلیمی بورڈز (BISEs) میں 15 سال کے طویل عرصے بعد خالی آسامیوں پر نئی بھرتیوں کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد انتظامی و معائنی امور کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں خالی پڑی گریڈ 16 اور 17 کی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی کا طریقہ کار تشکیل دے دیا گیا ہے۔ ان آسامیوں میں کمپیوٹر پروگرامر، اسسٹنٹ، سینئر کمپیوٹر آپریٹر، اسٹیٹ آفیسر، اسسٹنٹ سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری جیسے اہم انتظامی و تکنیکی عہدے شامل ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں صرف لاہور تعلیمی بورڈ میں گریڈ 16 اور 17 کی 33 مختلف آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے ذریعے عمل میں لائی جائیں گی۔

تعلیمی ماہرین اور بورڈز کے انتظامی حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ دہائی سے التوا کا شکار بھرتیوں کے اس عمل سے تعلیمی بورڈز میں افرادی قوت کی کمی کا خاتمہ ہوگا اور امتحانی و دفتری نظام میں جدت اور شفافیت آئے گی۔