LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا ایران کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کا کردار سراہا گیا: گورنر پنجاب وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ماہ امریکا کا دورہ کریں گے وزیراعظم کی چھوٹے، درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا: سہیل آفریدی کراچی کا یونیورسٹی روڈ 15 ستمبر تک 100 فیصد مکمل ہو جائے گا: شرجیل میمن پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی

پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں 15 سال بعد بھرتیوں کا فیصلہ

Web Desk

21 August 2026

لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے تعلیمی بورڈز (BISEs) میں 15 سال کے طویل عرصے بعد خالی آسامیوں پر نئی بھرتیوں کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد انتظامی و معائنی امور کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں خالی پڑی گریڈ 16 اور 17 کی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی کا طریقہ کار تشکیل دے دیا گیا ہے۔ ان آسامیوں میں کمپیوٹر پروگرامر، اسسٹنٹ، سینئر کمپیوٹر آپریٹر، اسٹیٹ آفیسر، اسسٹنٹ سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری جیسے اہم انتظامی و تکنیکی عہدے شامل ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں صرف لاہور تعلیمی بورڈ میں گریڈ 16 اور 17 کی 33 مختلف آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے ذریعے عمل میں لائی جائیں گی۔

تعلیمی ماہرین اور بورڈز کے انتظامی حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ دہائی سے التوا کا شکار بھرتیوں کے اس عمل سے تعلیمی بورڈز میں افرادی قوت کی کمی کا خاتمہ ہوگا اور امتحانی و دفتری نظام میں جدت اور شفافیت آئے گی۔