LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی منتقل چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل یکم جمادی الاول ہوگی صوبے کو انتشار نہیں خدمت کی ضرورت ہے، مریم نواز کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے امور کی نگرانی کیلئے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو

پنجاب : “ون ڈش” قانون کے اثرات سے شادی ہال مالکان شدید مالی بحران کا شکار

Web Desk

18 December 2025

پنجاب میرج ہال ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ایک نیوز کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ “ون ڈش” قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ پنجاب میرج فنکشنز ایکٹ 2016 کے تحت شادی ہالوں میں ون ڈش وقت کی پابندی 20 سال سے نافذ ہے، مگر یہ قانون پورے ملک نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

نمائندوں نے کہا کہ ہر سال شادیوں کے سیزن کے آغاز پر حکومت اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کرتی ہے اور شادی ہال مالکان کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ 2018 میں کچھ نرمی کی گئی تھی، جس میں ون ڈش کے ساتھ ایک اضافی ڈش اور رات کے اوقات میں 11 بجے تک کی سہولت دی گئی، لیکن موجودہ سختی اس انڈسٹری کے لیے شدید مالی دباؤ پیدا کر رہی ہے۔

ایسوسی ایشن نے بتایا کہ شادی ہالز کے مالکان اب سختیوں، جرمانوں اور سیل کے خدشات کے باعث بلیک میل کیے جا رہے ہیں، جبکہ یہ صنعت ہزاروں افراد کا روزگار فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم، فیلڈ مارشل، چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت سے اپیل کی کہ شادی ہال مالکان کے مطالبات منظور کیے جائیں تاکہ مالی بحران اور بے روزگاری کے مزید اثرات سے بچا جا سکے۔

نمائندوں کا کہنا تھا کہ اس ابھرتی ہوئی انڈسٹری کو اب تک حکومت کی پالیسی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مناسب ریلیف نہ دیا گیا تو شادی ہال انڈسٹری کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔