LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی رہنما رچرڈ گرنیل کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ: “انہیں فوری رہا کیا جائے ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو ریفائنری پر حملوں کا حوثی دعویٰ، سعودی اتحاد کی بحیرہ احمر پر جوابی کارروائی امریکا میں پاکستانی نژاد تحرک کی حمایت: پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکا کی غیر ملکی مالیاتی اداروں کو ایران سے لین دین پر پابندیوں کی دھمکی امریکا کی اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کے فروخت کی منظوری نیویارک میں خسرے کی وبا کے باعث ایمرجنسی نافذ پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کر رہی، ریاست یرغمال بنانے نہیں دیں گے: اختیار ولی سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی لانگ مارچ، دھرنے: پشاور میں تاجر برادری کا خیبر پختونخوا حکومت کیخلاف احتجاج روس کے کیف میں فضائی حملے، 6 افراد ہلاک، 59 زخمی برطانوی ایئربیس سے بی ون بمبار طیارے احتیاطی طور پر واپس بلائے: جے ڈی وینس روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں: امریکی صدر سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام

سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی

Web Desk

6 October 2026

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا وفاق اور مرکز کے خلاف جاری لانگ مارچ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور سہیل آفریدی کی مشترکہ قیادت میں اگلے مرحلے میں داخل ہو کر کوہاٹ پہنچ گیا ہے، جہاں سے قافلہ آج پشاور کی جانب پیش قدمی کرے گا۔ کوہاٹ پہنچنے پر کارکناں اور رہنماؤوں کے جمِ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤوں نے اپنے مطالبات کے دہرائے جانے کا سلسلہ جاری رکھا اور اگلے سیاسی لائحہ عمل کا اشارہ دیا۔

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے میڈیا اور مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “بند کمروں کے فیصلوں کو قوم کبھی قبول نہیں کرے گی” اور ان کے مطالبات مکمل طور پر آئینی و قانونی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوابی کے مقام پر آئندہ کے سخت اور حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 8 اکتوبر سے سیاسی میدان میں ایک نیا معرکہ یا ‘ٹی ٹونٹی کا میچ’ شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس احتجاجی مارچ کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت اور اطراف میں سیاسی درجہ حرارت انتہائی بلندی پر پہنچ چکا ہے۔