LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی

Web Desk

24 February 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی شدید منفی رجحان غالب ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

کاروباری صورتحال:
آج کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار نظر آئی۔ ہنڈرڈ انڈیکس میں 2000 سے زائد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 65 ہزار 554 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا ہے۔ معاشی ماہرین اس صورتحال کو گزشتہ روز کی مندی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز کا پس منظر:
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کا اختتام بھی شدید مندی پر ہوا تھا، جب انڈیکس 5 ہزار 478 پوائنٹس کی تاریخی کمی کے بعد ایک لاکھ 67 ہزار 691 کی سطح پر بند ہوا تھا۔ دو دنوں کے دوران مجموعی طور پر انڈیکس میں 7 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

مندی کی ممکنہ وجوہات:
مارکیٹ ذرائع کے مطابق سیاسی بے یقینی، آنے والے مانیٹری پالیسی کے فیصلے اور عالمی مارکیٹ کے اثرات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ منافع کے حصول کے لیے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔