LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

پمز میں بچوں کی ہلاکت پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

Web Desk

2 September 2026

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد میں آتشزدگی کے باعث 14 نوزائیدہ بچوں کی المناک ہلاکت پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایک اور آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل نثار اے مجاہد کی جانب سے دائر کردہ عوامی مفاد کی اس درخواست میں وفاق، وزارتِ صحت، پمز، سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد سمیت 13 اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکٹریکل اور اے سی کی خرابی کے باعث لگنے والی آگ سے بے بس نوزائیدہ بچے خود کو بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، جبکہ آئین کے تحت مریضوں کی زندگی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انجینئرز اور طبی ماہرین پر مشتمل آزاد کمیٹی قائم کی جائے، تمام سی سی ٹی وی فوٹیج و ریکارڈ محفوظ کیا جائے، اور اسلام آباد کے تمام وفاقی ہسپتالوں کا فوری جامع فائر آڈٹ اور باقاعدہ فائر ڈرلز کو یقینی بنایا جائے۔