پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان
Web Desk
15 December 2025
قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف عالمی عدالت انصاف جانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی لیبر ڈویژن کے رہنماؤں اور پیپلز یونٹی آف پی آئی اے نے حکومت کے نجکاری فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت من پسند خریدار کو دینے کی تیاری قرار دیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز کے مرکزی صدر ہدایت اللہ خان، پاکستان پیپلزپارٹی کے انچارج لیبر ڈویژن چوہدری منظور اور لیبر ڈویژن سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی نے حکومت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
پیپلز یونٹی آف پی آئی اے کے صدر ہدایت اللہ خان نے کہا کہ قومی ایئرلائن کو منظم منصوبے کے تحت پرائیوٹائز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونین کی جانب سے بولی میں شامل ہونے کی درخواست دی گئی تھی، جسے بغیر کسی جائزے کے مسترد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شفافیت کو یقینی نہ بنایا گیا تو آئی ٹی ایف کے ذریعے بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور دیگر مراعات کے تحفظ کی تحریری ضمانت دی جائے، تاکہ ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
ہدایت اللہ خان نے اعلان کیا کہ منگل سے علامتی طور پر ایک گھنٹے کا احتجاج شروع کیا جائے گا، جبکہ 23 دسمبر کو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور لازمی سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی، تاہم حکومت کو ہزاروں ملازمین کی مشکلات کا احساس کرنا ہوگا۔
پیپلزپارٹی لیبر ڈویژن کے انچارج چوہدری منظور نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری 23 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے جو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کا حل نجکاری نہیں بلکہ فضائی بیڑے میں نئے جہازوں کا اضافہ ہے۔
چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جہاز لیز پر لینا ایک معمول کی بات ہے اور بیرونِ ملک پاکستانی سرمایہ کار پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے قومی خزانے پر بوجھ نہیں، حکومت نے کبھی سبسڈی یا گرانٹ نہیں دی بلکہ قرض فراہم کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار ناکامی کے بعد قوانین کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر کے دوبارہ کوشش کی جا رہی ہے کہ قومی ادارے کو اونے پونے من پسند افراد کو فروخت کر دیا جائے، جبکہ پیپلز یونٹی آف پی آئی اے کو جان بوجھ کر نجکاری کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے، حالانکہ یونین ایک قانونی حیثیت رکھتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
نیویارک: اوورسیز کشمیریوں کا عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کا اظہار
6 June 2026
آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر
6 June 2026
آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار
6 June 2026
یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں
6 June 2026
پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز
6 June 2026
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس
6 June 2026
ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ؛ درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات
6 June 2026
تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے
6 June 2026