LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، چین کے دل ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: وزیراعظم ایف بی آر کی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت، سندھ بہت پیچھے رہ گیا: حافظ نعیم الرحمان آبنائے ہرمز میں 4 تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ

نادرا کا ب فارم کے بارے میں اہم فیصلہ

Web Desk

14 December 2025

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے فیملی ٹری کو مزید محفوظ اور مستند بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ نادرا کے مطابق بچوں کے بے فارم کے اجرا کے طریقہ کار میں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ فیملی ریکارڈ میں کسی غیر متعلقہ شخص کے اندراج کو روکا جا سکے۔

نادرا کے مطابق اب 3 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کے بے فارم پر تصویر لگانا لازمی ہوگا، جبکہ 10 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے فنگر پرنٹس بھی لیے جائیں گے۔ تاہم 3 سال تک کی عمر کے بچوں کے بے فارم کے لیے تصویر فراہم کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

نادرا نے مزید بتایا کہ بچے کی پیدائش کے ایک ماہ کے اندر اس کا اندراج متعلقہ یونین کونسل میں کرانا لازم ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کے ڈیٹا کو بروقت اور درست طریقے سے قومی ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے۔

نادرا حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد فیملی ٹری کو محفوظ بنانا اور کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے اندراج کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ نادرا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے قواعد کے مطابق اپنے بچوں کے اندراج اور دستاویزات کی تکمیل بروقت یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی مشکلات سے بچا جا سکے