LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انسانی حقوق کی آڑ میں بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں فتنہ الہندوستان کے 8 دہشت گرد ہلاک دہشت گردی اور تشدد جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے: بلاول بھٹو سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کے معائنے کا عمل شروع ، کئی عمارتیں خستہ حال قرار پنجاب میں ایک سال کے دوران 4 لاکھ مویشی تیار، لائیوسٹاک برآمدات میں 43 فیصد اضافہ انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ

سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کے معائنے کا عمل شروع ، کئی عمارتیں خستہ حال قرار

Web Desk

18 October 2026

سانحہ پشاور دیر کالونی کے خوفناک حادثے کے بعد خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی سیکیورٹی اور ڈھانچے کی جانچ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران متعدد اضلاع میں سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتیں شدید خستہ حال اور خطرہ پائی گئی ہیں۔

تین دن قبل پشاور کے علاقے دیر کالونی سعید آباد میں ‘الخیر ایجوکیشن سسٹم’ نامی نجی اسکول کی چھت گرنے سے 32 بچے اور 2 خاتون اساتذہ جاں بحق جبکہ 40 سے زائد بچے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔ درج ایف آئی آر کے مطابق معصوم بچوں نے حادثے سے قبل مالکان کو عمارت کی بوسیدگی سے آگاہ کیا تھا لیکن ان کی بات پر توجہ نہیں دی گئی۔ 2024 میں لیز پر حاصل کیے گئے 16 مرلے کے پلاٹ پر ناقص مٹیریل سے تعمیر کی گئی اس عمارت کے گرنے پر پولیس نے اسکول کے مالکان اور ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔

سانحے کے فوراً بعد خیبر پختونخوا حکومت کی ہدایت پر محکمہ تعلیم نے شہریوں سے سوشل میڈیا پر بوسیدہ اسکولوں کی ویڈیوز شیئر کرنے کی اپیل کی تھی، جس کے بعد موصول ہونے والی رپورٹس میں ہولناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بونیر کے بدال اسکول کے 4، چارسدہ کے 3 اسکولوں کے 15، اور لوئر دیر میں لڑکوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں بالکل ناقابلِ استعمال قرار دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں کرک، لکی مروت، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان (جہاں 25 کلاس رومز) اور ہری پور کے لڑکیوں کے 3 اسکولوں کی عمارتوں کو مکمل طور پر بوسیدہ اور خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔