LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کو مسترد کر دیا، بانی چیئرمین کے بنیادی و انسانی حقوق کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی سعودی عرب اور سینٹ کام کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، کاظم غریب آبادی جنگ کے باعث ایران میں لاکھوں افراد کو روزگار اور معاشی مشکلات کا سامنا ایرانی میزائل حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے ضلع صور میں ایک بار پھر بمباری اسرائیل کے غزہ میں حملے جاری، مزید 4 فلسطینی شہید، 14 زخمی ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں، امریکی میڈیا کا دعویٰ ایران آبنائے ہرمز پر غیر ضروری مطالبات کر رہا ہے، امریکی حکام ایران میں رجیم تبدیلی کی کوششیں ناکام، رضا پہلوی اپوزیشن کو متحد کرنے میں ناکام یمنی حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کویت کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت، خطے میں امن کیلئے خطرناک قرار دیدیا دفاعی سازو سامان کی تیاری پہلے سے زیادہ فعال ہوچکی: ایرانی قائم مقام وزیر دفاع بھارتی سپریم کورٹ کا نوجوان مظاہرین کیخلاف کارروائی روکنے، نابالغ افراد کی رہائی کا حکم

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

Web Desk

22 December 2025

ملکی معیشت میں ایک اور سنگِ میل عبور ہو گیا ہے، جہاں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ذخائر میں اضافے کے باعث ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے، جو فروری 2023 میں دو ہفتوں سے بھی کم رہ گئی تھی۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ قرضوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقامی ترقی، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک آ گیا ہے، جبکہ فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2023 میں جہاں مرکزی بینک کے ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے، وہیں اب ان میں تقریباً ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت محض عددی بہتری نہیں بلکہ معاشی استحکام، مضبوط ذخائر اور پائیدار بیرونی معاشی بحالی کی واضح علامت ہے۔