LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں

پاک امریکا مشق انسپائرڈ گمبٹ 2026، دونوں افواج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ

Web Desk

15 January 2026

اسلام آباد: پاک امریکا مشترکہ فوجی مشق انسپائرڈ گمبٹ 2026 میں دونوں ملکوں کی افواج کے شرکاء نے اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مشق 8 جنوری سے شروع ہوئی جو 16 جنوری تک جاری رہے گی۔ مشق کے سلسلے میں جمعرات کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں معزز مہمانوں کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکا کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر اور دیگر سینئر امریکی فوجی شخصیات نے تقریب میں شرکت کی۔ مہمانوں کو مشق کی اہمیت، مقاصد اور انعقاد کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی افواج کے شرکاء نے دہشت گردی سے نمٹنے کی مشقوں کے دوران اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جسے معزز مہمانوں نے سراہا۔

ترجمان کے مطابق مشق کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کے تجربات کے تبادلے کے ذریعے دو طرفہ فوجی تعاون کو فروغ دینا، مشقوں اور طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانا اور باہمی ہم آہنگی کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔