LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

پاکستان میں مقامی ویکسین کی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی تعاون

Web Desk

3 February 2026

اسلام آباد: مملکتِ سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت منسٹر آف انڈسٹریز کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کر رہے ہیں، پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وفد کا استقبال وزارتِ صحت اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا۔

وفد کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کی قیادت میں وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے موجودہ انفراسٹرکچر، صلاحیتوں اور مستقبل کی ڈیمانڈ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ڈریپ اور قومی ادارہ صحت کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے بھی اپنی رپورٹ پیش کی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ حکومت 13 اقسام کی ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کرتی ہے۔ تاہم، موجودہ ویکسینیں ملک میں تیار نہیں کی جاتیں اور ان پر سالانہ تقریباً 400 ملین ڈالر لاگت آتی ہے، جس کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار اور 51 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہونے پر حکومت کو تمام لاگت اپنی معیشت سے برداشت کرنا ہوگی، اور اگر ویکسین مقامی طور پر تیار نہ ہوئی تو سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ تعاون صحت کے شعبے میں خطے کے لیے ایک مثالی اشتراک ثابت ہوگا۔