LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی

پاکستان میں مقامی ویکسین کی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی تعاون

Web Desk

3 February 2026

اسلام آباد: مملکتِ سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت منسٹر آف انڈسٹریز کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کر رہے ہیں، پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وفد کا استقبال وزارتِ صحت اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا۔

وفد کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کی قیادت میں وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے موجودہ انفراسٹرکچر، صلاحیتوں اور مستقبل کی ڈیمانڈ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ڈریپ اور قومی ادارہ صحت کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے بھی اپنی رپورٹ پیش کی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ حکومت 13 اقسام کی ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کرتی ہے۔ تاہم، موجودہ ویکسینیں ملک میں تیار نہیں کی جاتیں اور ان پر سالانہ تقریباً 400 ملین ڈالر لاگت آتی ہے، جس کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار اور 51 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہونے پر حکومت کو تمام لاگت اپنی معیشت سے برداشت کرنا ہوگی، اور اگر ویکسین مقامی طور پر تیار نہ ہوئی تو سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ تعاون صحت کے شعبے میں خطے کے لیے ایک مثالی اشتراک ثابت ہوگا۔