LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید سلامتی کونسل: پاکستان کا 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا مطالبہ کلابریا ضمنی انتخاب، میلونی کی حکمران اتحادی جماعت نے اہم نشست دوبارہ حاصل کرلی

پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے

Web Desk

28 September 2026

پاکستان نے نورستان واقعے سے متعلق افغان طالبان حکومت کے عائد کردہ تمام الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور لغو قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل اور سخت بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا صوبہ نورستان یا افغانستان کے اندر ہونے والی کسی بھی داخلی جھڑپ یا تنازع سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق افغان سرزمین پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے، یا سابق افغان اہلکاروں کی بھرتی، تربیت اور داعش سمیت کسی بھی کالعدم یا دہشت گرد گروہ کی سہولت کاری کے الزامات مکمل طور پر حقائق کے برعکس ہیں۔

وزارتِ اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ افغان حکام کی جانب سے پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ایک بھی قابلِ تصدیق ثبوت، مثلاً شناخت، رسمی دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش مبینہ ویڈیوز کا پاکستان سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ ترجمان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والی طالبان انتظامیہ کا پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگانا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت اپنی داخلی سلامتی کی نااہلی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے بجائے افغان سرزمین کو پاکستان یا خطے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے عالمی وعدے پورے کرے، اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں وہاں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ غیر شمولیتی طالبان حکومت کے یہ جھوٹے ادعائیات اپنے اندرونی اختلافات اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر جاری جبر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔