LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی:علیمہ خان  شکیرا کے فیفا ورلڈ کپ 2026 گانے کی ویڈیو جاری، میسی اور امباپے سمیت عالمی ستارے شامل پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط ایران کی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر زور 8ذوالحج: مناسک حج کا آغاز، 20 لاکھ سے زائد عازمین منیٰ پہنچنے لگے بلوچستان حملہ پوری قوم کے دل پر وار ہے: نواز شریف واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری، فون نمبر کے بغیر یوزر نیم سے چیٹ ممکن ہوگی امریکی صدر ٹرمپ کا ایران امریکا جنگ کو ’الوداع‘ کا اشارہ، اے آئی تصویر اور پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی ٹرین دھماکے سمیت بلوچستان میں بڑھتی بدامنی پر انسانی حقوق کمیشن کا شدید تشویش کا اظہار بھارت میں شدید ہیٹ ویو، درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ویرات کوہلی ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ ملائے بغیر گزر گئے، سوشل میڈیا پر شدید تنقید پاکستان : اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن متاثر ، 83 پروازیں منسوخ حجاج کے تحفظ کیلئے جامع دفاعی انتظامات مکمل، مقدس مقامات کی فضائی نگرانی سخت عید تعطیلات میں تبدیلی، سندھ میں 26 سے 28 مئی تک چھٹیاں ہوں گی  بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع ممکن نہیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

پاکستان میں نئی انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب، بین الاقوامی کنیکٹیویٹی مزید بہتر ہوجائے گی

Web Desk

22 November 2025

پاکستان نے SEA-ME-WE 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تنصیب کے ساتھ عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یہ جدید نظام ملک کے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر میں نئی توانائی بھرنے کا سبب بنے گا۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ 19 ہزار 200 کلومیٹر پر مشتمل ہائی کیپیسٹی فائبر نیٹ ورک ہے جو پاکستان کو سنگاپور سے فرانس تک مختلف ممالک کے ساتھ براہِ راست جوڑتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیبل کی مجموعی صلاحیت 100 ٹی بی پی ایس سے زائد ہے، جو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان کم ترین لیٹینسی والے راستوں میں سے ایک فراہم کرے گی۔

وزارت آئی ٹی کے مطابق اس کنسورشیم میں پاکستان کی جانب سے ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس شامل ہے جبکہ دیگر شراکت داروں میں بنگلہ دیش سب میرین کیبل کمپنی، بھارتی ایئرٹیل، دھیراگو، جبوتی ٹیلی کام، موبیلی، اورنج، سنگٹیل، سری لنکا ٹیلی کام، ٹیلی کام مصر، ٹیلی کام ملائیشیا اور ٹیلن شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ SEA-ME-WE 6 کی جدید فائبر ٹیکنالوجی پچھلے تمام سسٹمز کے مقابلے میں دوگنی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ مصر کے متعدد جغرافیائی کراسنگ پوائنٹس اور لینڈنگ اسٹیشنز ایشیا–یورپ ہائی ٹریفک روٹس کے لیے مزید استحکام اور تنوع فراہم کرتے ہیں۔

یہ نظام نہ صرف تیزی سے اسکیل ایبلٹی اور بہتر فالٹ پروٹیکشن دیتا ہے بلکہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے لاگت میں کمی کا بھی باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی انٹرنیٹ بیک بون میں ایک مضبوط اضافہ شامل ہو گیا ہے۔

پاکستان کے لیے اس منصوبے کے تحت 13.2 ٹی بی پی ایس کی صلاحیت مختص کی گئی ہے، جس میں سے 4 ٹی بی پی ایس فوری طور پر فعال کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ کو بڑھانا اور کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، اسٹریمنگ، فِن ٹیک، ای کامرس اور مجموعی طور پر ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔