LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ

پاکستان میں نئی انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب، بین الاقوامی کنیکٹیویٹی مزید بہتر ہوجائے گی

Web Desk

22 November 2025

پاکستان نے SEA-ME-WE 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تنصیب کے ساتھ عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یہ جدید نظام ملک کے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر میں نئی توانائی بھرنے کا سبب بنے گا۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ 19 ہزار 200 کلومیٹر پر مشتمل ہائی کیپیسٹی فائبر نیٹ ورک ہے جو پاکستان کو سنگاپور سے فرانس تک مختلف ممالک کے ساتھ براہِ راست جوڑتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیبل کی مجموعی صلاحیت 100 ٹی بی پی ایس سے زائد ہے، جو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان کم ترین لیٹینسی والے راستوں میں سے ایک فراہم کرے گی۔

وزارت آئی ٹی کے مطابق اس کنسورشیم میں پاکستان کی جانب سے ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس شامل ہے جبکہ دیگر شراکت داروں میں بنگلہ دیش سب میرین کیبل کمپنی، بھارتی ایئرٹیل، دھیراگو، جبوتی ٹیلی کام، موبیلی، اورنج، سنگٹیل، سری لنکا ٹیلی کام، ٹیلی کام مصر، ٹیلی کام ملائیشیا اور ٹیلن شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ SEA-ME-WE 6 کی جدید فائبر ٹیکنالوجی پچھلے تمام سسٹمز کے مقابلے میں دوگنی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ مصر کے متعدد جغرافیائی کراسنگ پوائنٹس اور لینڈنگ اسٹیشنز ایشیا–یورپ ہائی ٹریفک روٹس کے لیے مزید استحکام اور تنوع فراہم کرتے ہیں۔

یہ نظام نہ صرف تیزی سے اسکیل ایبلٹی اور بہتر فالٹ پروٹیکشن دیتا ہے بلکہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے لاگت میں کمی کا بھی باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی انٹرنیٹ بیک بون میں ایک مضبوط اضافہ شامل ہو گیا ہے۔

پاکستان کے لیے اس منصوبے کے تحت 13.2 ٹی بی پی ایس کی صلاحیت مختص کی گئی ہے، جس میں سے 4 ٹی بی پی ایس فوری طور پر فعال کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ کو بڑھانا اور کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، اسٹریمنگ، فِن ٹیک، ای کامرس اور مجموعی طور پر ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔