LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

پاکستان میں نئی انٹرنیٹ کیبل کی تنصیب، بین الاقوامی کنیکٹیویٹی مزید بہتر ہوجائے گی

Web Desk

22 November 2025

پاکستان نے SEA-ME-WE 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تنصیب کے ساتھ عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یہ جدید نظام ملک کے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر میں نئی توانائی بھرنے کا سبب بنے گا۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ 19 ہزار 200 کلومیٹر پر مشتمل ہائی کیپیسٹی فائبر نیٹ ورک ہے جو پاکستان کو سنگاپور سے فرانس تک مختلف ممالک کے ساتھ براہِ راست جوڑتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیبل کی مجموعی صلاحیت 100 ٹی بی پی ایس سے زائد ہے، جو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان کم ترین لیٹینسی والے راستوں میں سے ایک فراہم کرے گی۔

وزارت آئی ٹی کے مطابق اس کنسورشیم میں پاکستان کی جانب سے ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس شامل ہے جبکہ دیگر شراکت داروں میں بنگلہ دیش سب میرین کیبل کمپنی، بھارتی ایئرٹیل، دھیراگو، جبوتی ٹیلی کام، موبیلی، اورنج، سنگٹیل، سری لنکا ٹیلی کام، ٹیلی کام مصر، ٹیلی کام ملائیشیا اور ٹیلن شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ SEA-ME-WE 6 کی جدید فائبر ٹیکنالوجی پچھلے تمام سسٹمز کے مقابلے میں دوگنی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ مصر کے متعدد جغرافیائی کراسنگ پوائنٹس اور لینڈنگ اسٹیشنز ایشیا–یورپ ہائی ٹریفک روٹس کے لیے مزید استحکام اور تنوع فراہم کرتے ہیں۔

یہ نظام نہ صرف تیزی سے اسکیل ایبلٹی اور بہتر فالٹ پروٹیکشن دیتا ہے بلکہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے لاگت میں کمی کا بھی باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی انٹرنیٹ بیک بون میں ایک مضبوط اضافہ شامل ہو گیا ہے۔

پاکستان کے لیے اس منصوبے کے تحت 13.2 ٹی بی پی ایس کی صلاحیت مختص کی گئی ہے، جس میں سے 4 ٹی بی پی ایس فوری طور پر فعال کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ کو بڑھانا اور کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، اسٹریمنگ، فِن ٹیک، ای کامرس اور مجموعی طور پر ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔