LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی ایرانی و قطری حکام کے دوحہ میں مذاکرات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر گفتگو روس، یوکرین کے انسانی حقوق کے نمائندوں کے درمیان پُراعتماد رابطے قائم ہیں: کریملن یوکرین میں بجلی کی فراہمی میں مشکلات، لاکھوں گھر بجلی سے محروم ہوگئے: زیلنسکی قطر سے گیس آرہی ہے، دسمبر، جنوری میں وافر سپلائی جاری رہے گی: علی پرویز ملک نیویارک سٹی میراتھون کی 50 ویں ریس میں پاکستانی رنرز بھی ایکشن میں ہوں گے مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نےبھارتی صحافی نِدھی رازدان سے شادی کرلی ٹرمپ کے مار اے لاگو کلب کی حفاظت کیلئے ’ایونجر‘ فضائی دفاعی نظام نصب کردیا گیا پاکستان میں سعودیہ کو ٹیکس فری تیل ذخیرہ کرنے کی پیشکش کراچی: ورلڈ کلچر فیسٹیول کی رونقیں عروج پر، تیسرے روز بھی فن و ثقافت کے رنگ نمایاں چیئرمین پی سی بی کی ون ڈے ٹرائی سیریز جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکباد پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں، ایران امریکا مذاکرات آج دوحہ میں متوقع یو اے ای لاٹری: شرکا 3 کروڑ درہم کا انعام جیتنے میں ناکام، اگلی قرعہ اندازی 4 نومبر کو ہوگی افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی قابلِ تشویش، پاکستان کی حمایت کرتے ہیں: مارکو روبیو افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی تعلقات میں رکاوٹ ہے: وزارت اطلاعات

افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی تعلقات میں رکاوٹ ہے: وزارت اطلاعات

Web Desk

31 October 2026

وزارتِ اطلاعات نے افغان طالبان ترجمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹوئٹ پاک افغان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کی اصل اور بنیادی وجوہات سے چشم پوشی کے مترادف ہے، اور افغان طالبان قیادت دانستہ طور پر دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی کے اصل محرکات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے بالکل شفاف اور دوٹوک ہے کہ دہشت گردی ہمارے لیے ایک ’ریڈ لائن‘ ہے اور اپنے معصوم شہریوں کی جان و مال کی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونا دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داریبنتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے تمام اڈوں اور پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کرے۔

ترجمان وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف عملی اور مؤثر اقدامات اٹھانے سے مسلسل گریز ہی پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ دہشت گردی جیسے انتہائی سنگین مسئلے پر بے بنیاد الزام تراشی اور محض کھوکھلی یقین دہانیاں اس بحران کے حل میں کسی طور مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں، لہٰذا افغان طالبان قیادت کو خطے کو درپیش دہشت گردی کے ان سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا قلع قمع کرنے اور ان کے فوری خاتمے کے لیے تمام ضروری قانونی و عسکری اقدامات کرنے کا بھرپور حق محفوظ رکھتا ہے، اور یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق کیے جائیں گے۔ پاکستان کی سالمیت اور قومی سلامتی کو افغان طالبان حکومت کی کسی بھی قسم کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، کیونکہ پاکستانی شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین اور ناقابلِ تسخیر ترجیح ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو کوئی بھی کمزوری ہرگز نہ سمجھے۔ وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان کے آخر میں مطالبہ کیا کہ افغان طالبان قیادت محض زبانی جمع خرچ اور بیانات دینے کے بجائے اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گردوں کے خلاف فوری، عملی اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔