LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع میں اضافہ

Web Desk

7 February 2026

سعودی عرب کے تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی سیکٹر میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ ویژن 2030 کے تحت ملک میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، آٹومیشن اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، ہدفی مہارت سازی کے پروگرامز اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 256 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

سعودی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو پرکشش تنخواہوں، ویزا اسپانسر شپ اور دیگر مراعات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ حساس شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی میں پاکستانی ماہرین کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے سعودی عرب میں ذیلی دفاتر قائم کر رکھے ہیں اور عملے کو وہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور آئی ٹی جامعات و صنعتی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔