LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید سعودی ولی عہد کا ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کے امریکی منصوبے پر اظہار تشویش عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ

سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع میں اضافہ

Web Desk

7 February 2026

سعودی عرب کے تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی سیکٹر میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ ویژن 2030 کے تحت ملک میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، آٹومیشن اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، ہدفی مہارت سازی کے پروگرامز اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 256 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

سعودی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو پرکشش تنخواہوں، ویزا اسپانسر شپ اور دیگر مراعات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ حساس شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی میں پاکستانی ماہرین کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے سعودی عرب میں ذیلی دفاتر قائم کر رکھے ہیں اور عملے کو وہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور آئی ٹی جامعات و صنعتی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔