LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ

سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع میں اضافہ

Web Desk

7 February 2026

سعودی عرب کے تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی سیکٹر میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ ویژن 2030 کے تحت ملک میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، آٹومیشن اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، ہدفی مہارت سازی کے پروگرامز اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 256 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

سعودی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو پرکشش تنخواہوں، ویزا اسپانسر شپ اور دیگر مراعات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ حساس شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی میں پاکستانی ماہرین کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے سعودی عرب میں ذیلی دفاتر قائم کر رکھے ہیں اور عملے کو وہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور آئی ٹی جامعات و صنعتی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔