LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

جون تک زرمبادلہ ذخائرکا18ارب ڈالرکا ہدف پوراکیاجائے، آئی ایم ایف کاپاکستان سے مطالبہ

Web Desk

10 March 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات کا ایک اور سیشن ہوا۔جس کے دوران آئی ایم ایف کو معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متعلق ٹیکس تجاویز  پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایاگیاکہ بہتری کے باوجود معاشی غیر یقینی اورخطرات برقرار ہیں، علاقائی کشیدگی کے باعث ملک میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ خوراک، ایندھن اور توانائی مہنگی ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافے ہوسکتاہے۔

مذاکرات کے دوران یہ بات واضح کی گئی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اورسپر ٹیکس کا خاتمہ آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔جبکہ تنخواہ پر انکم ٹیکس میں پانچ فیصد ممکنہ کمی کیلئے آئی ایم ایف سے بھی منظوری لازمی قراردی گئی۔

حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 16.3 ارب ڈالر ہے جس پر آئی ایم ایف نے جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالر کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

حکام نے مزید بتایاکہ کارپوریٹ سیکٹراور امیر طبقے پرسپر ٹیکس اورپراپرٹی انکم پر ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔اسی طرح پاکستانی برآمدات پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس بھی واپس لینے کی تجویز ہے۔مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف سے نئے مالی سال کے بجٹ پر مزید مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔