LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری

Web Desk

28 September 2026

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں ٹیکس اصلاحات اور گڈ گورننس کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے نئے قانون اور ضوابط پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس سلسلے میں ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے آئی ایم ایف کے وفد سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ملاقات کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کی جانب سے کسٹمز اور انکم ٹیکس سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی، جبکہ کسٹمز اور انکم ٹیکس پالیسی ونگز کے حکام نے بھی وفد کو اپنے اہداف سے آگاہ کیا۔

آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نئے قانون کے تحت گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے، اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی یہ تفصیلات متعلقہ سرکاری ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور حکومت ان کے مالی طرز عمل کو مؤثر انداز میں ریگولیٹ اور مانیٹر کر سکے۔

مذاکرات میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکرٹری فنانس ڈویژن نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور آئی ایم ایف کے وفد کو سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق کی جانے والی قانون سازی سے تفصیلی آگاہ کیا۔