LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری کابینہ کمیٹی اجلاس: قانون سازی کیلئے وزارتوں کو ترامیم اور سفارشات بھجوانے کی ہدایت ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ثالث ملکوں کے نمائندوں کے امریکا، ایران سے الگ الگ مذاکرات متوقع بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور حسن نصراللہ مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای 4 اکتوبر کو احتجاج کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں: عطا تارڑ سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار شنگھائی تعاون تنظیم کا کوآرڈینیشن اجلاس، بھارتی وفد کی اسلام آباد آمد پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم، مالی معاونت میں ملوث ہے: وفاقی وزرا

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری

Web Desk

28 September 2026

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں ٹیکس اصلاحات اور گڈ گورننس کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے نئے قانون اور ضوابط پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس سلسلے میں ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے آئی ایم ایف کے وفد سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ملاقات کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کی جانب سے کسٹمز اور انکم ٹیکس سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی، جبکہ کسٹمز اور انکم ٹیکس پالیسی ونگز کے حکام نے بھی وفد کو اپنے اہداف سے آگاہ کیا۔

آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نئے قانون کے تحت گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے، اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی یہ تفصیلات متعلقہ سرکاری ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور حکومت ان کے مالی طرز عمل کو مؤثر انداز میں ریگولیٹ اور مانیٹر کر سکے۔

مذاکرات میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکرٹری فنانس ڈویژن نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور آئی ایم ایف کے وفد کو سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق کی جانے والی قانون سازی سے تفصیلی آگاہ کیا۔