پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری
Web Desk
28 September 2026
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں ٹیکس اصلاحات اور گڈ گورننس کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے نئے قانون اور ضوابط پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس سلسلے میں ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے آئی ایم ایف کے وفد سے اہم ملاقاتیں کیں۔
ملاقات کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کی جانب سے کسٹمز اور انکم ٹیکس سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی، جبکہ کسٹمز اور انکم ٹیکس پالیسی ونگز کے حکام نے بھی وفد کو اپنے اہداف سے آگاہ کیا۔
آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نئے قانون کے تحت گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے، اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی یہ تفصیلات متعلقہ سرکاری ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور حکومت ان کے مالی طرز عمل کو مؤثر انداز میں ریگولیٹ اور مانیٹر کر سکے۔
مذاکرات میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکرٹری فنانس ڈویژن نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور آئی ایم ایف کے وفد کو سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق کی جانے والی قانون سازی سے تفصیلی آگاہ کیا۔
متعلقہ عنوانات
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی
18 October 2026
امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران
18 October 2026
خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری
18 October 2026
اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
18 October 2026
خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام
18 October 2026
مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب
18 October 2026
خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے
18 October 2026
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو
18 October 2026