LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحاد نے ینبع کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل اور بحیرہ احمر میں 2 کروز میزائل تباہ کردیے ٹیسلا کی فلائنگ کار نے ’اڑان‘ بھر لی، 2028 میں پروڈکشن کا اعلان افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے: سید ابرار حسین ایک ہزار ڈرونز سے حملے، پوتن کا مقصد یوکرین کا مکمل خاتمہ ہے: زیلنسکی امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان فریحہ ابراہیم کی ہاسٹل میں موت، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پر 2 کروڑ روپے جرمانہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ 18 فیصد اضافہ، درآمدی بل بھی 11 فیصد بڑھ گیا کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ دہشت گرد زاہد گل ہلاک چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لندن میں آنریری بینچر کا اعزاز دے دیا گیا گلشن حدید میں گھر سے 5 لاشیں ملنے کا معاملہ، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی اسحاق ڈار کی سول ایوی ایشن کے جاری منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ آرمینیا کی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی پاکستان اور ورلڈ بینک کا سرمایہ کاری، روزگار کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق

افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے: سید ابرار حسین

Web Desk

16 October 2026

مسکو میں وسطی ایشیا اور افغانستان کی سلامتی سے متعلق CSTO، CIS اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان اور پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے طالبان کی افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے وعدوں پر مؤثر اور قابلِ تصدیق عمل درآمد کرے۔

سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے کیونکہ افغان صورتحال کے براہِ راست اثرات پاکستان پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، تاہم اگست 2021ء کے بعد تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر کالعدم تنظیموں کی افغان سرزمیں سے جاری کارروائیاں باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت محض بیانات کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس، نتائج دینے والے اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

کانفرنس سے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی خطاب کیا اور دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف علاقائی تعاون مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں کسی بھی مغربی عسکری تنصیب کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب، افغان سفیر حسن گل حسن نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کیا، تاہم پاکستانی نمائندے نے واضح کیا کہ محض زبانی دعوے کافی نہیں بلکہ سرحدی سلامتی اور علاقائی تجارتی و توانائی کے منصوبوں کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔