LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی قیمتی پتھروں کیلئے برانڈ پاکستان متعارف کروانے کی ہدایت آئینی عدالت: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار کے پی حکومت سیکیورٹی چیلنجز پر چڑھائی کو ترجیح دیتی رہی، قیدی رہنما کا ریلیف عدالتوں کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا کا فیصلہ واپس لے کر ایوان کو مضبوط بنایا جائے، یہ حکومت بندوق اور پیسے کے زور پر قائم ہے: اپوزیشن لیڈر حکومت نے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی لیکن تحریک انصاف نے سیاسی خود کش حملہ کیا: بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش محسن نقوی سے روسی ہم منصب کی ملاقات، وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے باعث پاکستانی پروازیں متاثر، 114 منسوخ وزیر اعلیٰ پنجاب نے لائیو سٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا وفاقی آئینی عدالت: بشریٰ بی بی سزا معطلی کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ ایران پر زمینی حملہ امریکی فوج کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا: مشیر اعلیٰ کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب پاکستان کو اکتوبر میں پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ کوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ایگزیوس کا ایران کیخلاف فوجی آپریشن پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں بات چیت کا دعویٰ وزیراعظم سے مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی سلامتی پر گفتگو

پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار

Web Desk

5 March 2026

پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی کے معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ سول نیوکلیئر تعاون کے نام پر بھارت کو دیا جانے والا یہ ایک اور غیر معمولی استثنا ہے جو عالمی قوانین کی روح کے منافی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تاریخی حقائق کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ 1974 میں بھارت کی جانب سے کیے گئے ایٹمی تجربے ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) کے قیام کی بنیادی وجہ بنے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت نے اب تک اپنی تمام سول نیوکلیئر تنصیبات کو عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں نہیں دیا ہے، اور کئی اہم تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنے سے باہر ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ بیرونی ممالک سے یورینیم کی بلا روک ٹوک سپلائی بھارت کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ اپنے مقامی وسائل کو صرف جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کے لیے استعمال کرے، جس سے جنوبی ایشیا کا سٹریٹیجک توازن بری طرح متاثر ہوگا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اس طرح کے منتخب استثنا عالمی عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ سول نیوکلیئر تعاون کے لیے ایک غیر امتیازی اور اصولوں پر مبنی نظام اپنایا جائے تاکہ کسی ایک ملک کو نوازنے سے خطے میں اسلحے کی دوڑ تیز نہ ہو اور عالمی امن خطرے میں نہ پڑے۔