LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2روزمیں کچھ ہوسکتاہے،فیلڈمارشل کی کارکردگی کے باعث مذاکرات کیلیے پاکستان کا انتخاب ممکن ہے، صدرٹرمپ کراچی سے 2بندوں کو اٹھایاتوپتہ چل جائے گا3سال میں 100ارب ڈالرکیسے بیرون ملک چلاگیا، محسن نقوی اسلام آبادمیں پاک، سعودیہ، ترکیہ ، مصرکی وزارتِ خارجہ کے سینئرحکام کا اہم اجلاس جنگ بندی کےلیے ثالثی نہیں کررہے، پاکستانی کردارکی حمایت کرتے ہیں، قطر جنگ میں حصہ لینے والے تمام ممالک نقصانات پرہرجانہ اداکریں ، ایران کا مطالبہ فرانسیسی صدرکا امریکی و ایرانی صدور سے رابطہ، غلط فہمیاں دورکرنے کا مطالبہ بحری ناکہ بندی کا امریکی فیصلہ غیرقانونی اور اشتعال انگیز، ایرانی سفیررضاامیری پاکستان میں معاشی شرح نموسست، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ،آئی ایم ایف کی آؤٹ لک رپورٹ صدرزرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، پاک ایران مذاکرات کے تمام پہلوؤں پر اعتماد میں لیا وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب روانہ ہوں گے؛ ایک ماہ میں دوسرا دورہ اسحاق ڈار کی یورپی یونین خارجہ امور سے رابطہ، پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا گیا پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس مضبوط فورس ہے: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی شرمناک ہے، مسلم ممالک متحد ہوں تو دشمن کچھ نہیں؛ امیر جماعت اسلامی اسحاق ڈار کا کینیڈین ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات؛ ملک میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن

پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار

Web Desk

5 March 2026

پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی کے معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ سول نیوکلیئر تعاون کے نام پر بھارت کو دیا جانے والا یہ ایک اور غیر معمولی استثنا ہے جو عالمی قوانین کی روح کے منافی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تاریخی حقائق کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ 1974 میں بھارت کی جانب سے کیے گئے ایٹمی تجربے ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) کے قیام کی بنیادی وجہ بنے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت نے اب تک اپنی تمام سول نیوکلیئر تنصیبات کو عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں نہیں دیا ہے، اور کئی اہم تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنے سے باہر ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ بیرونی ممالک سے یورینیم کی بلا روک ٹوک سپلائی بھارت کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ اپنے مقامی وسائل کو صرف جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کے لیے استعمال کرے، جس سے جنوبی ایشیا کا سٹریٹیجک توازن بری طرح متاثر ہوگا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اس طرح کے منتخب استثنا عالمی عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ سول نیوکلیئر تعاون کے لیے ایک غیر امتیازی اور اصولوں پر مبنی نظام اپنایا جائے تاکہ کسی ایک ملک کو نوازنے سے خطے میں اسلحے کی دوڑ تیز نہ ہو اور عالمی امن خطرے میں نہ پڑے۔