LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پاکستان، برطانیہ کا آئندہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں عملی نتائج کے حصول پر اتفاق خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری، مزید 142 کیسز رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ مکمل، عالمی امن کیلئے پاکستانی کردار کی تحسین کرک: مسلح افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار شہید افغانستان میں اس وقت 25 دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں: محسن نقوی سندھ ہائیکورٹ آئینی بنچز کی مدت میں توسیع کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب 8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین کا دکھ آج بھی محسوس ہوتا ہے: مریم نواز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان یمن: حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے اور باب المندب میں حملوں کا دعویٰ سندھ میں تقرریاں نہ لینے والے 63 میں سے 20 سب رجسٹراروں کی معطلی سفارش امریکا جلد ایران سے نکل جائے گا، تیل کی قیمتیں گرنے والی ہیں: ٹرمپ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا امریکی فوج کو ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے تیار رہنے کا حکم

اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ

Web Desk

7 October 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی تجویز پر آپس میں اور اپنی جماعتوں میں تفصیلی مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوری اور سیاسی قوتیں ہمیشہ مذاکرات اور گفتگو پر یقین رکھتی ہیں، تاہم حکومت کے موجودہ منفی رویے کے باعث باہمی بات چیت کی گنجائش مسلسل کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ سیاسی مذاکرات کسی بھی پسِ پردہ قوتوں کی مداخلت کے بغیر اور ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے پی سی منعقد ہوتی ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے ایک مشترکہ قومی ایجنڈا اور لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی عدم توازن کا خاتمہ ہو سکے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے تاکید کی کہ آئین اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج اور لانگ مارچ ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد آنے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ پریس کانفرنس کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک کی بگڑتی معاشی و سیکیورٹی صورتحال کے حل کے لیے تمام سیاست دانوں کا مل بیٹھنا وقت کی ضرورت ہے۔