LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا آغاز، 5 روڈ منصوبے نجی شعبے کے سپرد ملک بھر میں 257 کارروائیوں میں 700 حوثی جنگجو مارے گئے: یمنی فوج ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر نیویارک: 72 گھنٹے کے گرینڈ آپریشن میں لاپتہ اور انسانی اسمگلنگ کا شکار 34 بچے بازیاب ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ میپ جاری کر دیا لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا: رانا ثنا اللہ چھوٹے یونٹس سے لوگ اپنی مرضی سے انتظامی سربراہ منتخب کر سکیں گے، مصطفیٰ کمال سپین میں مہنگے گھروں کے خلاف احتجاج، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی طالبان رجیم کیخلاف 68 کارروائیاں،102 اہلکار ہلاک

اپوزیشن اتحاد مذاکرات کے لیے تیار، نئے چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری کا مطالبہ

Web Desk

21 December 2025

اپوزیشن اتحاد، تحریک تحفظ آئین پاکستان، نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کروانے اور نئے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتخابات پر کھڑی ہے، اور ہم نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری چاہتے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے مذاکرات کے لیے اپنی تیاری کا بھی اعلان کیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر عائد پابندی اور پیکا کے کالے قوانین ختم کیے جائیں، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسز میں کمی کی جائے۔ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے امن جرگے کے متفقہ لائحہ عمل پر عمل درآمد کیا جائے اور صوبے کو این ایف سی میں اس کا حصہ دیا جائے۔

اپوزیشن اتحاد نے اسٹوڈنٹس یونین پر عائد پابندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں مشاورتی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عوامی مسائل اور صوبائی معاملات پر بھرپور تبادلہ خیال ممکن ہو۔