LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے

Web Desk

17 October 2026

اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی وزرائے خارجہ کونسل کا 52واں اجلاس آج عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی امن و سلامتی اور امتِ مسلمہ کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ملک میں اہم مصروفیت اور پیش آمدہ امور کے باعث اس اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق جدہ میں او آئی سی کے لیے پاکستان کے مستقل نمائندے فواد شیر اجلاس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی کریں گے۔

اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ترکیہ، مصر اور دیگر اہم مسلم ممالک کے اعلیٰ حکام بغداد پہنچ چکے ہیں۔ یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی اور سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، اور تمام رکن ممالک خطے میں پائیدار امن، تنازعات کے سفارتی حل اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کریں گے۔