نیویارک:میئر ہاؤس کے باہر اسلام مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ آلات پھینکے گئے، 2افراد زیر حراست
Web Desk
8 March 2026
نیویارک میں شہر کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ہونے والے اسلام مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ آلات پھینکے جانے کے واقعے کے بعد دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ مجموعی طور پر چھ افراد گرفتار ہوئے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ ہفتے کے روز اس وقت پیش آیا جب نیویارک کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ایک دائیں بازو کے سرگرم کارکن جیک لینگ کی قیادت میں اسلام مخالف مظاہرہ جاری تھا اور اس کے مقابلے میں بڑی تعداد میں جوابی مظاہرین بھی موجود تھے۔
نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹِش نے میڈیا کو بتایا کہ مظاہرے کے دوران ایک 18 سالہ شخص نے ایک مشتبہ آلہ جلایا اور اسے مظاہرے کے مقام کی جانب پھینک دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آلہ فضا میں سفر کرتے ہوئے دھواں اور شعلے خارج کر رہا تھا اور ایک رکاوٹ سے ٹکرا کر پولیس اہلکاروں سے چند قدم کے فاصلے پر بجھ گیا۔
پولیس کے مطابق اسی نوجوان نے بعد میں ایک اور آلہ بھی جلایا جو اسے ایک 19 سالہ شخص نے دیا تھا۔ دوسرا آلہ چند فاصلے پر سڑک پر گرا دیا گیا جس کے بعد دونوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق دونوں مشتبہ آلات فٹبال سے چھوٹے شیشے کے جار جیسے تھے جنہیں سیاہ ٹیپ سے لپیٹا گیا تھا اور ان میں نٹ، بولٹ، پیچ اور فیوز نصب تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے انہیں تحویل میں لے کر مزید جانچ کے لیے منتقل کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ واقعی دھماکا خیز آلات تھے یا محض خوف پھیلانے کے لیے بنائے گئے جعلی آلات۔
مظاہرے کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایک مظاہرین نے مخالف مظاہرین پر مرچوں والا اسپرے کر دیا جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ بعض افراد نے ایک دوسرے پر انڈے بھی پھینکے۔
پولیس کے مطابق مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں مشتبہ آلات استعمال کرنے والے دو افراد، مرچوں والا اسپرے کرنے والا شخص اور بد نظمی و ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے والے تین افراد شامل ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ اضافی مشتبہ آلات کی تلاش کے لیے کتے اور دیگر ٹیمیں بھی تعینات کی گئیں تاہم مزید کوئی آلہ نہیں ملا۔
حکام کے مطابق دونوں گرفتار افراد کا تعلق ریاست پنسلوانیا سے ہے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور انسداد دہشت گردی ٹاسک فورس بھی تحقیقات میں شامل ہو گئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی، جو شہر کے پہلے مسلمان میئر ہیں، واقعے کے وقت رہائش گاہ میں موجود تھے تاہم وہ اور ان کی اہلیہ محفوظ رہے۔
میئر کے ترجمان نے اسلام مخالف مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نفرت انگیز رویوں کی سنگینی کی یاد دہانی ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکی صدر ٹرمپ نے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی
21 July 2026
برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ : نیا محاذ کھل گیا
21 July 2026
نئے برطانوی وزیراعظم نے بھی امریکا کو ایران کیخلاف حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنےکی اجازت دیدی
21 July 2026
بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کا طاقت سے جواب دیا جائے گا: ترکی المالکی
21 July 2026
وزیر خارجہ اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے لیے فلپائن روانہ
21 July 2026
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا
21 July 2026
متحدہ عرب امارات کی بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت
21 July 2026
سعودی کابینہ کا خطے میں فوجی کشیدگی فوری ختم کرنے کا مطالبہ
21 July 2026