LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم، کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے 4 مطلوب ارکان کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر؛ کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی آرمی چیف کی ملاقات، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس غیر قانونی ہے، امریکی جج کا فیصلہ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 5 افراد شہید، کئی زخمی پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیئے ایران کے خلاف کشیدگی بڑھائی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب

اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا،وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب

Web Desk

5 November 2025

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک اس وقت اپنے معاشی نظام میں اصلاحات کر رہے ہیں، اور پاکستان بھی اسی سمت میں عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگلے سال کا وفاقی بجٹ ایف بی آر نہیں بلکہ نیا قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہم نے ریونیو اور اخراجات دونوں کو سامنے رکھ کر ملک کو چلانا ہے، کیونکہ پائیدار معیشت کے لیے آمدنی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کے ساتھ مل کر بجٹ کی تیاری کی جائے گی اور ٹیکس اصلاحات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ چیئرمین ایف بی آر اس نئے نظام میں سیکرٹریل سپورٹ فراہم کریں گے تاکہ اصلاحاتی عمل میں تسلسل برقرار رہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں 500 ملین یورو بانڈ کی ادائیگی کی ہے، جو معیشت کی بہتری اور اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی استحکام کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اپنے اخراجات خود برداشت کیے ہیں، انہوں نے کہاوفاقی وزیرِ خزانہ نے ملک میں مثبت معاشی اشاروں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کے آٹو سیکٹر کی ایکسپورٹ ہوئی ہے، جو صنعتی ترقی کی جانب اہم قدم ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے، یہ بات اب واضح ہو چکی ہے۔
کسانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ کسانوں کو بغیر ضمانت اور رہن رکھوائے بغیر قرضے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ زراعتی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ریونیو میں اضافہ اور مالی نظم و ضبط وقت کی اہم ضرورت ہے۔