LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ایران نے امریکا کو سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کردی این ایف سی میں خیبرپختونخوا کو انسداد دہشتگردی کیلئے ڈیڑھ سوارب سے زائد ملے: عطا تارڑ بیرسٹر گوہر کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات: 27 ستمبر لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا مزید سستا ہوگیا اسلام آباد: مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا: بیرسٹر گوہر جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹ غائب، مقدمہ درج کفایت شعاری مہم: قومی اسمبلی کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے: جی 7 ممالک کا مشترکہ بیان اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل پر زور پاکستان اور لیبیا کے درمیان تجارت، تعلیم اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق راولپنڈی: علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاجی کیس کا ٹرائل مکمل، فیصلہ 25 ستمبر کو سنایا جائے گا

اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا،وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب

Web Desk

5 November 2025

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک اس وقت اپنے معاشی نظام میں اصلاحات کر رہے ہیں، اور پاکستان بھی اسی سمت میں عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگلے سال کا وفاقی بجٹ ایف بی آر نہیں بلکہ نیا قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہم نے ریونیو اور اخراجات دونوں کو سامنے رکھ کر ملک کو چلانا ہے، کیونکہ پائیدار معیشت کے لیے آمدنی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کے ساتھ مل کر بجٹ کی تیاری کی جائے گی اور ٹیکس اصلاحات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ چیئرمین ایف بی آر اس نئے نظام میں سیکرٹریل سپورٹ فراہم کریں گے تاکہ اصلاحاتی عمل میں تسلسل برقرار رہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں 500 ملین یورو بانڈ کی ادائیگی کی ہے، جو معیشت کی بہتری اور اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی استحکام کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اپنے اخراجات خود برداشت کیے ہیں، انہوں نے کہاوفاقی وزیرِ خزانہ نے ملک میں مثبت معاشی اشاروں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کے آٹو سیکٹر کی ایکسپورٹ ہوئی ہے، جو صنعتی ترقی کی جانب اہم قدم ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے، یہ بات اب واضح ہو چکی ہے۔
کسانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ کسانوں کو بغیر ضمانت اور رہن رکھوائے بغیر قرضے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ زراعتی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ریونیو میں اضافہ اور مالی نظم و ضبط وقت کی اہم ضرورت ہے۔