LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقامی منڈیوں میں چینی کی قیمتوں کا استحکام اولین ترجیح ہے: اسحاق ڈار ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے اعداد و شمار پیش: جولائی تا ستمبر 2026 میں پٹرول کی یومیہ فروخت 21 ہزار میٹرک ٹن سے متجاوز سینیٹ میں محسن نقوی، کامران مرتضیٰ اور عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی سیاسی اختلاف اپنی جگہ، ریاست مخالف باتیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں: محسن نقوی روس افریقہ سربراہی اجلاس : صدر پوتن کا افریقی ممالک سے اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور وزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ کے دوران معاشی استحکام اور قومی اتحاد کو اہم قرار دے دیا محمد اورنگزیب سے سعودی سفیر کی ملاقات، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کی ایران جنگ سے امریکا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہوگیا: اوباما جیو پولیٹیکل چیلنجز پر وزرا ایوان کو بریفنگ دیں، اپوزیشن انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اراکین نامزد کرے: بلاول بھٹو زرداری مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی اور خوراک مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پرانے ملازمین قومی ایئرلائن کا سرمایہ ہیں، ادارہ انہیں دھتکار کر نہ رکھے: عدالت بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کا روٹ توڑنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے تہران گئے، کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا: خواجہ آصف

سیاسی اختلاف اپنی جگہ، ریاست مخالف باتیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں: محسن نقوی

Web Desk

29 October 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ریاستی اداروں سے متعلق حالیہ بیان پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ وہ ماضی میں مولانا کا احترام کرتے تھے مگر اداروں پر تنقید کے بعد اب اس کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فائدے ملنے پر ریاست اچھی لگے اور حکومت نہ ملنے پر تنقید کی جائے، ایسا رویہ کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔ وزیر داخلہ نے دورۂ ایران پر وضاحت دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے دفاعی معاہدے سے متعلق دعوے کو رد کیا اور بتایا کہ وہ وزیراعظم کے دیے گئے خصوصی ٹاسک پر ایران گئے تھے نہ کہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے۔