LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کے ایئرپورٹ حملوں پر سعودی التحالف کا بڑا ایکشن: 127 ذخیرہ گاہیں تباہ، حوثی صلاحیتیں ختم کرنے کا اعلان برین ڈرین کا بحران: گزشتہ 3 سالوں میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل خیبرپختونخوا میں گورنر راج غیر آئینی ہے، پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے: محمود خان اچکزئی Slug: افغان طلبہ کا میڈیکل کالجوں سے اخراج کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ کی حکمِ امتناعی میں توسیع خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر پی ٹی آئی مثبت کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے: رانا ثناء اللہ پنجاب اے آئی دور میں داخل جبکہ خیبرپختونخوا پتھر کے دور میں ہے: مریم نواز سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مندوب مقرر کرنے کا فیصلہ بی آر ٹی پشاور کیلئے مزید 27 نئی بسیں پہنچ گئیں بسنت کے 10 روزہ انعقاد کے خلاف درخواست مسترد انمول عرف پنکی مزید 2 مقدمات میں بری، عدالت کا رہائی کا حکم بنوں پولیس کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے جدید بلٹ پروف گاڑیاں فراہم ہماری ترقی صلاحیتوں کے مطابق محدود، کسی بھی ضلع کی کارکردگی اچھی نہیں: میاں عامر محمود پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران تیزی ایران جنگ: امریکی میزائل دفاعی ذخائر 2030 تک کمی برقرار رہنے کا خدشہ

ہماری ترقی صلاحیتوں کے مطابق محدود، کسی بھی ضلع کی کارکردگی اچھی نہیں: میاں عامر محمود

Web Desk

16 October 2026

دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز (PAS) اکیڈمی میں زیرِ تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں فوری گورننس ریفارمز اور چھوٹے انتظامی یونٹس (صوبوں) کے قیام پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی تقسیم کی بات نہیں کرتے بلکہ 25 کروڑ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات کا مطالبات کر رہے ہیں، کیونکہ ملک کا کوئی بھی ضلع اچھے نتائج نہیں دے رہا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے تو پنجاب میں 10، سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 8 اور گلگت بلتستان سمیت بلوچستان و دیگر علاقوں میں متوازن انتظامی تقسیم سے گورننس بہتر ہو سکتی ہے۔

میاں عامر محمود نے انسانی ترقی کے اشاریوں اور تعلیم و صحت کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں پہلے نمبر پر ہے اور 40 فیصد بچوں کی نشوونما (Stunting) درست نہیں ہو پا رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جو این ایف سی ایوارڈ میں اپنا شیئر دیگر صوبوں کو دیتا ہے، مگر اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہو رہے۔ انہوں نے عدالتی و پولسنگ نظام کی خامیوں اور تعلیمی بدحالی پر قابو پانے کے لیے تمام حصوں کو مساوی ترقی دینے پر زور دیا۔