LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ امریکی حملوں میں صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: وائٹ ہاؤس واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیکنگ میں اضافہ، این سی سی آئی اے کا الرٹ اسرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ، کم از کم 14 فلسطینی شہید ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے، کئی اہلکار زخمی بحرین میں فضائی حملے کا الرٹ جاری، سائرن فعال کر دیے گئے ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کیلئے روس متحرک ایران کے جنگ بندی قبول کرنے سے امریکا کو بحری ناکہ بندی مضبوط بنانے کا موقع ملا، محسن رضائی یمنی حکومت کی کویت، بحرین، قطر اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت پاسداران انقلاب کی بحریہ کا بوشہر کے اوپر امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ آپریشن ’’الفارس الشہم 3‘‘: اماراتی طیارہ مزید 100 ٹن امدادی سامان لے کر غزہ پہنچ گیا مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر وینزویلا: 24 گھنٹے میں مزید 101 افراد جاں بحق، زلزلوں سے ہلاکتیں 4930 ہوگئیں دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3 ارب افراد بھوکے سوتے ہیں: اقوام متحدہ

جنگ کا 20 واں روز: ایران نے خلیج میں توانائی تنصیبات پر میزائل داغ دیئے، عرب اسلامی ممالک کی مذمت

Web Desk

19 March 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بیسویں روز ایران نے حملوں کی نئی لہر شروع کر دی، جس کے تحت خلیجی خطے میں امریکا سے منسلک تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان کارروائیوں کو “آپریشن وعدہ صادق 4” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہونے والے انٹیلی جنس حکام کے نام منسوب ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران جنگ کو توانائی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتا تھا، تاہم ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ریاض میں ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے اجلاس کے اعلامیے میں بھی ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو توانائی تنصیبات پر مزید حملوں سے روک دیا ہے، جبکہ خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکی صدر اور امیر قطر سے رابطہ کر کے گیس فیلڈ حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔ایران اور قطر کی گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔پینٹاگون نے ایران جنگ کے لیے اضافی 200 ارب ڈالر کی منظوری مانگ لی ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا خلیج تعاون کونسل نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عراق میں ام القصر بندرگاہ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ اسرائیل کے وسطی علاقے میں ایرانی ڈرون حملے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک ہو گیا۔ابوظہبی میں میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا تاہم حبشان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی تعاون پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی پارس گیس فیلڈ کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے