جنگ کا 20 واں روز: ایران نے خلیج میں توانائی تنصیبات پر میزائل داغ دیئے، عرب اسلامی ممالک کی مذمت
Web Desk
19 March 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بیسویں روز ایران نے حملوں کی نئی لہر شروع کر دی، جس کے تحت خلیجی خطے میں امریکا سے منسلک تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان کارروائیوں کو “آپریشن وعدہ صادق 4” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہونے والے انٹیلی جنس حکام کے نام منسوب ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران جنگ کو توانائی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتا تھا، تاہم ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ریاض میں ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے اجلاس کے اعلامیے میں بھی ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو توانائی تنصیبات پر مزید حملوں سے روک دیا ہے، جبکہ خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکی صدر اور امیر قطر سے رابطہ کر کے گیس فیلڈ حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔ایران اور قطر کی گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔پینٹاگون نے ایران جنگ کے لیے اضافی 200 ارب ڈالر کی منظوری مانگ لی ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا خلیج تعاون کونسل نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عراق میں ام القصر بندرگاہ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ اسرائیل کے وسطی علاقے میں ایرانی ڈرون حملے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک ہو گیا۔ابوظہبی میں میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا تاہم حبشان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی تعاون پر زور دیا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی پارس گیس فیلڈ کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے
متعلقہ عنوانات
پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
6 September 2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو
6 September 2026
6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری
6 September 2026
ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ
6 September 2026
شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ
5 September 2026
ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے
5 September 2026
ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان
5 September 2026
ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی
5 September 2026