LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی یوم دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کا شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت ملک بھر میں یوم دفاع و شہدا آج بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے یوم دفاع و شہدا ہمیں مسلح افواج اور قوم کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، وزیراعظم عوام نے ثابت کردیا، میر پور خاص عمران خان کا قلعہ ہے: سہیل آفریدی آئی پی یو یوتھ کانفرنس کی سربراہی پاکستان کو مل گئی، سینیٹر آغا شاہ زیب صدر منتخب حکومت سے مذاکرات نہ ہوئے تو منگل کو پہیہ جام ہڑتال ہو گی:حافظ نعیم الرحمان بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل

جنگ کا 20 واں روز: ایران نے خلیج میں توانائی تنصیبات پر میزائل داغ دیئے، عرب اسلامی ممالک کی مذمت

Web Desk

19 March 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بیسویں روز ایران نے حملوں کی نئی لہر شروع کر دی، جس کے تحت خلیجی خطے میں امریکا سے منسلک تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان کارروائیوں کو “آپریشن وعدہ صادق 4” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہونے والے انٹیلی جنس حکام کے نام منسوب ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران جنگ کو توانائی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتا تھا، تاہم ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ریاض میں ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے اجلاس کے اعلامیے میں بھی ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو توانائی تنصیبات پر مزید حملوں سے روک دیا ہے، جبکہ خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکی صدر اور امیر قطر سے رابطہ کر کے گیس فیلڈ حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔ایران اور قطر کی گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔پینٹاگون نے ایران جنگ کے لیے اضافی 200 ارب ڈالر کی منظوری مانگ لی ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا خلیج تعاون کونسل نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عراق میں ام القصر بندرگاہ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ اسرائیل کے وسطی علاقے میں ایرانی ڈرون حملے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک ہو گیا۔ابوظہبی میں میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا تاہم حبشان گیس فیلڈ عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی تعاون پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی پارس گیس فیلڈ کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے