LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی ذیابیطس کی روک تھام کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایت لاہور ہائیکورٹ نے آئل مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا محسن نقوی کا ترقیاتی منصوبوں کا دورہ، 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر مریم نواز برہم، 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور نواب شاہ میں مال بردار ٹرین کی بوگی پٹری سے اتر گئی مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات ہونے چاہئیں: طاہر اندرابی دہلی میں کاکروچ پارٹی کا احتجاج، 250 ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو سٹیشنز بند بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کی تیاری پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سہیل آفریدی کی قیادت میں چارسدہ پہنچ گیا حرمین شریفین کی حرمت سرخ لکیر، عبور نہیں کیا جا سکتا: امام حرم شیخ السدیس گورنر راج یا ایمرجنسی؟ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے متعلق اہم اجلاس طلب کرلیا روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ جنگ لمبی کرنے کیلئے سرمایہ کاری ہے، زیلنسکی نیپال میں سکول بس حادثے کا شکار، 4 طلبہ سمیت 5 افراد ہلاک، 14 زخمی امریکا کو کیوبا کیساتھ ایندھن اور دیگر اشیاء کی تجارت محدود کرنے کا حق نہیں: برونو روڈریگز روسی حملوں سے یوکرین میں مزید ہلاکتیں، زیلنسکی کا نیٹو سے دفاعی امداد کا مطالبہ

نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر، 12 اکتوبر کو ہوگی

Web Desk

10 October 2026

پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی والدہ نورین نیازی اور خالہ عظمیٰ خان کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں 12 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی ہے۔ جسٹس عبہر گل خان سکینہ نیازی کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر سماعت کریں گی، جس میں درخواست گزار کی طرف سے رانا مدثر ایڈووکیٹ جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ خان عدالت میں پیش ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے نظر بند خواتین کو ادویات اور کپڑوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور کا اتوار کے روز جاری کردہ نظر بندی کا حکم غیر آئینی ہے، جبکہ 9 مئی کے جس کیس میں انہیں شاملِ تفتیش کیا گیا تھا اس میں بھی وہ بے گناہ ثابت ہو چکی ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دے کر دونوں شریف شہریوں کو فوراً رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔