LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی نئی او پی ٹی فیس کی تجویز، کالجز کو بھاری جرمانے یا فیس ادا کرنا ہوگی ڈیزل سستا، پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا گیا عمران سے ملاقات کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے: محمود اچکزئی مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے آیا، ملک کی بہتری کیلئے دعا گو ہوں: سپیکر قومی اسمبلی وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات، علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ایرانی فوج کا طویل جنگ کیلئے مکمل تیاری اور پیشگی کارروائیوں کا اعلان ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان بیلاروسی وفد کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات محسن نقوی، طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی ملاقات صومالی بحری قزاقوں سے بازیاب تین پاکستانی کراچی پہنچ گئے ایران افزودگی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، ایرانی عہدیدار عالمی مسائل کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کا کردار مزید اہم ہو گیا: اسحاق ڈار سینیٹر فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی

طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ واپس لینے کا محکمہ جنگلات کا حکم کالعدم، ملازم کا حق بحال

Web Desk

1 September 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ جنگلات کی جانب سے ملازم کی طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کا آرڈر واپس لینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے شہری کا قانونی حق بحال کر دیا ہے۔ ہائیکورٹ کی فاضل جج جسٹس شیریں عمران نے درخواست گزار محمد اکرم کی عرضداشت پر 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، درخواست گزار کو 30 جون 2021 کو طبی بنیادوں پر کیٹیگری ’بی‘ کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ریٹائر کیا گیا تھا اور 365 دن کی ایل پی آر (LPR) کے عوض نقد رقم کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم، محکمہ جنگلات نے محکمہ خزانہ کی بعد میں جاری ہونے والی ایک وضاحت کی بنیاد پر 24 جون 2022 کو سابقہ ریٹائرمنٹ آرڈر منسوخ کر دیا تھا، جسے ملازم نے عدالت عالیہ میں چیلنج کیا۔

جسٹس شیریں عمران نے فیصلے میں طے شدہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی سرکاری حکم پر عمل درآمد کے بعد حقوق پیدا ہو چکے ہوں (جیسا کہ ملازم کے بیٹے کی رول 17-A کے تحت تقرری)، تو اسے بعد میں واپس نہیں لیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی نئی پالیسی یا وضاحت کا اطلاق ماضی سے (Retrospectively) نہیں ہو سکتا جب تک اس میں واضح ذکر نہ ہو۔ مزید برآں، ملازم کو شوکاز نوٹس دیے بغیر اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر منفی فیصلہ سنانا قدرتی انصاف (Natural Justice) کے اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 30 جون 2021 کا اصلی ریٹائرمنٹ حکم بحال کر دیا۔