LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت

طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ واپس لینے کا محکمہ جنگلات کا حکم کالعدم، ملازم کا حق بحال

Web Desk

1 September 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ جنگلات کی جانب سے ملازم کی طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کا آرڈر واپس لینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے شہری کا قانونی حق بحال کر دیا ہے۔ ہائیکورٹ کی فاضل جج جسٹس شیریں عمران نے درخواست گزار محمد اکرم کی عرضداشت پر 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، درخواست گزار کو 30 جون 2021 کو طبی بنیادوں پر کیٹیگری ’بی‘ کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ریٹائر کیا گیا تھا اور 365 دن کی ایل پی آر (LPR) کے عوض نقد رقم کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم، محکمہ جنگلات نے محکمہ خزانہ کی بعد میں جاری ہونے والی ایک وضاحت کی بنیاد پر 24 جون 2022 کو سابقہ ریٹائرمنٹ آرڈر منسوخ کر دیا تھا، جسے ملازم نے عدالت عالیہ میں چیلنج کیا۔

جسٹس شیریں عمران نے فیصلے میں طے شدہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی سرکاری حکم پر عمل درآمد کے بعد حقوق پیدا ہو چکے ہوں (جیسا کہ ملازم کے بیٹے کی رول 17-A کے تحت تقرری)، تو اسے بعد میں واپس نہیں لیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی نئی پالیسی یا وضاحت کا اطلاق ماضی سے (Retrospectively) نہیں ہو سکتا جب تک اس میں واضح ذکر نہ ہو۔ مزید برآں، ملازم کو شوکاز نوٹس دیے بغیر اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر منفی فیصلہ سنانا قدرتی انصاف (Natural Justice) کے اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 30 جون 2021 کا اصلی ریٹائرمنٹ حکم بحال کر دیا۔