LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، مسلسل سفارتی رابطوں پر زور ایرانی وزیر خارجہ عباس اراقچی کی مختصر ٹیم کے ساتھ آج رات اسلام آباد میں آمد متوقع- حکومتی ذرائع اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی کوششوں پر تبادلہ خیال ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی قیادت سے رابطہ، جنگ بندی امور پر مشاورت پنجاب حکومت کی اپنا کھیت اپنا روزگار سکیم کا آغاز، زمین اور گرانٹ دینے کا اعلان بھارتی وزیر دفاع جرمنی میں آبدوز کے اندر جاتے ہوئے گر گئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی مگر ہوش میں ہیں: نیویارک ٹائمز پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا 3.45 ارب ڈالر کا تمام قرض ادا کر دیا، اسٹیٹ بینک خیبر: سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 22 ہلاک معرکہ حق: فیلڈ مارشل کا بھارتی اشتعال انگیزی اور کشمیر پر دو ٹوک مؤقف ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان برطانیہ: 2008کے بعد پیدا ہونے والوں پر تاحیات سگریٹ پر پابندی اسپیس ایکس نے پاکستانی نوجوان کی اے آئی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے کی آفر کردی کراچی میں نوجوان سے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ہزاروں ڈالرز لوٹ لیے گئے

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کا انخلا ضروری ہے: لبنان

Web Desk

24 April 2026

بیروت: لبنان کی حکومت نے علاقائی سیاست اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا راستہ ایران سے الگ ہو چکا ہے۔ لبنانی وزراء کے مطابق، ملک کی خودمختاری اور استحکام کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے، تاہم اس عمل کے آغاز کے لیے اسرائیلی فوج کا لبنانی علاقوں سے انخلاء پہلی شرط ہے۔لبنان کے وزیرِ اطلاعات پال مورکوس نے حالیہ پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا  تین ہفتوں کی جنگ بندی میں حالیہ توسیع لبنانی حکومت کی خصوصی درخواست پر کی گئی ہے، جس کا مقصد لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہے۔ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور سرحدوں پر فوج کی تعیناتی سمیت تمام ضروری اقدامات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل اپنی افواج لبنان سے واپس بلائے۔لبنانی وزیرِ خارجہ یوسف راجی نے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایک جرات مندانہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقصد جنگ کا خاتمہ اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی ہو، تو اسرائیل سے بات چیت کرنے میں کوئی عار نہیں۔ ان کے اہم نکات درج ذیل تھے:

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کو ‘ہتھیار ڈالنے’ کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک موثر سفارتی ذریعہ ہیں۔ وزیرِ خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ لبنان کسی بھی بیرونی طاقت کا تابع نہیں ہے اور نہ ہی وہ خطے میں کسی خاص “محور” (Axis) کے ہاتھ میں بطور کارڈ استعمال ہوگا۔

لبنانی قیادت کے ان بیانات کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں لبنان اب اپنی داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو بیرونی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔