LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کلابریا ضمنی انتخاب، میلونی کی حکمران اتحادی جماعت نے اہم نشست دوبارہ حاصل کرلی اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ نے پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچنے کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا المخا میں یمنی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں 5 حوثی ہلاک، 13 زخمی برطانیہ میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار 5 افراد ضمانت پر رہا غزہ میں نیتن یاہو کی پیدا کردہ تکالیف کو جائز قرار نہیں دے سکتے، برطانوی وزیر خارجہ ایران کے متعدد سابق حکومتی عہدیداران کا حکومت کو خط، این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا زائرین کی پروازیں بحال کرنے کیلئے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ٹرمپ جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کو اقتصادی ریلیف دینے کیلئے تیار امریکی حکام نے آج ایران کے ثالثوں سے بات چیت کی ہے، صدر ٹرمپ احتجاج کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، بیرسٹر گوہر گورنر راج کی دھمکیوں پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی سرفراز بگٹی کی چوہدری شجاعت سے ملاقات، بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی جب تک عمران خان نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے: جنید اکبر ایم ڈی کیٹ 2026: سندھ کے ٹاپ 20 میں کراچی کا کوئی امیدوار شامل نہیں

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 228 بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم

Web Desk

29 September 2026

لاہور ہائیکورٹ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں گریڈ 1 سے 22 تک ہونے والی 228 ملازمین کی مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر جامع اور شفاف تحقیقات کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے جسٹس خالد اسحاق نے پروفیسر احسان قادر بھابہ اور دیگر کی جانب سے دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین بااختیار ادارے ‘سینڈیکیٹ’ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان تمام 228 بھرتیوں کے طریقہ کار، میرٹ اور قانونی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لے کر مکمل تحقیقات کرے، جبکہ اس عمل کے دوران تمام متاثرہ و متعلقہ افراد کو شنوائی کا پورا اور مناسب موقع فراہم کیا جائے۔

درخواست گزاروں کے وکیل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ذوہیب عمران شیخ نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں خادموں سے لے کر پروفیسرز تک کی 228 اسامیوں پر خلافِ میرٹ اور غیر شفاف انداز میں تقرریاں کی گئیں۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے اپنی ریٹائرمنٹ کی رات گئے مبینہ طور پر ان متنازعہ بھرتیوں کے نوٹیفکیشن جاری کیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بطور چانسلر گورنر پنجاب کی جانب سے بھی سینڈیکیٹ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا، تاہم مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے افراد عدالتی حکمِ امتناعی (سٹے آرڈر) کی آڑ لے کر تحقیقاتی عمل کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر تمام بھرتیوں کی قانونی جانچ پڑتال یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔