LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایف ڈبلیو او کی کارکردگی انتہائی ناقص، ایوان مطمئن نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلاول بھٹو زرداری کا کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا: اقوام متحدہ کا انکوائری کمیشن یمنی افواج کے 24 گھنٹے میں حوثی ملیشیا پر 1276 حملے، 382 کمانڈر و اہلکار نشانہ بنے وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی آج ملاقات طے ایران نے یورپ اور امریکا کو نشانہ بنانے والے میزائل تیار کر لیے: ٹرمپ کوٹ ادو: 3 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا سبزی فروش گرفتار بھارت کشمیریوں کے جزبہ حریت کو ختم نہیں کر سکتا: صدر، وزیراعظم آزاد کشمیر ایران پر حملے کی مخالفت: اسرائیلی وزیراعظم کا آرمی چیف کو برطرف کرنے کا امکان امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی اضافہ امریکی صدر کا انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کیلئے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان اردن کی جنوبی شام میں مبینہ دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق شام میں دمشق اور حمص کو ملانے والی شاہراہ پر ڈرون حملہ، 3 افراد ہلاک امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم پیش رفت یوکرین کو روسی حملوں سے دفاع کیلئے اہم امریکی میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا

ایران پر حملے کی مخالفت: اسرائیلی وزیراعظم کا آرمی چیف کو برطرف کرنے کا امکان

Web Desk

27 October 2026

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی مخالفت کرنے پر آرمی چیف کو عہدے سے برطرف کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

معروف اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق اگر وزیراعظم نیتن یاہو آئندہ انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ آرمی چیف ایال زمیر کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے مبینہ منصوبے کے معاملے پر موساد کے سربراہ اور اسرائیلی آرمی چیف کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں؛ جہاں موساد کے سربراہ نیتن یاہو کے اس حملے کے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں آرمی چیف نے انتخابات سے قبل ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کی مخالفت کی ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ موساد کے سینئر حکام نے بھی اس حملے کے درست وقت اور ملکی انتخابات پر اس کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔