ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کیلئے اسرائیل نے فوجی تیاریاں مکمل کرلیں، اسرائیلی اخبار
Web Desk
1 November 2026
اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر ایک نئی جنگ چھیڑنے کے پیش نظر اپنی تمام تر فوجی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جن میں دفاعی اور جارحانہ دونوں اقدامات شامل ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی عسکری تیاریاں اب محض کاغذی منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی مشقوں کے مرحلے میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے ایران کی سرحدوں کی جانب پروازیں کی ہیں، اور ان مشقوں کا بنیادی مقصد ایران پر ممکنہ فضائی حملوں کے راستوں کی باقاعدہ ریہرسل کرنا تھا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیلی سیاسی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ اگرچہ عسکری تیاری مکمل ہے، تاہم اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت فی الحال جنگ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہے؛ اس سارے معاملے کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی سفارتی معاہدے کی کوششیں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اسرائیل کے ساتھ مل کر دوبارہ عسکری کارروائیاں شروع کرنے کا راستہ اپناتے ہیں۔ دوسری جانب، اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کے مختلف منصوبے پیش کر دیے ہیں، تاہم ابھی تک واشنگتن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی فوج کے 10 بڑے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اسرائیلی فضائی اڈوں پر اتر چکے ہیں، جو خطے میں امریکی فوجی سازوسامان کی فراہمی کے لیے جاری فضائی نقل و حمل کا حصہ ہیں۔ تاہم اسرائیلی سیاسی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کو اس وقت جس اہم ترین تزویراتی مسئلے کا سامنا ہے، وہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حتمی اہداف ابھی تک واضح طور پر طے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری تنصیبات، میزائل نظام اور عسکری صلاحیتوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنانے سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ اس سے تہران کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا یا اس کی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی۔ رپورٹ کے آخر میں اس شدید خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑتی ہے اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ بھی اس میں شامل ہو جاتی ہے تو یہ تنازع پورے خطے بالخصوص لبنان تک پھیل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ طویل ہو سکتی ہے اور اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکر باردوی سرنگوں سے ٹکرا گئے: پاسداران انقلاب
2 November 2026
ممالک ایران کیخلاف نئی جنگ کی حمایت نہ کریں، امید ہے خطے کے ممالک ماضی سے سبق سیکھ چکے ہوں گے: عباس عراقچی
2 November 2026
ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ امریکا جلد معاملہ نمٹا دےگا، ڈونلڈٹرمپ
2 November 2026
امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی میں اختلاف، خاتون رکنِ کانگریس نے ریپبلکن امیدوار کی حمایت کردی
1 November 2026
غزہ میں بمباری کے نتیجے میں یرغمالی بھی ہلاک ہوئے: اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ کا اعتراف
1 November 2026
افغانستان سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پربلااشتعال فائرنگ کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی
1 November 2026
حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملہ ناکام
1 November 2026
چین سے پارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط، تجربات کے تبادلے فروغ پا رہے: یوسف رضا گیلانی
1 November 2026