LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دبئی میں 30 روزہ قومی جشن کا آغاز، اماراتی پرچم، ثقافت اور ورثے کے رنگ نمایاں ہوں گے امارات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے سالانہ حکومتی مقابلہ شروع ایران کے جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں شدید دھماکوں کی اطلاعات کراچی میں گاڑی میں سوار افراد کی فیملی سے بدتمیزی، وحشیانہ تشدد آپریشن الفارس الشهم 3 کے تحت 343 ٹن انسانی امداد امارات سے غزہ روانہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں بات چیت تیز ہو گئی: ایرانی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو کسی طویل جنگ میں دھکیلنے کے سخت خلاف ہیں، جے ڈی وینس ایپک سربراہی اجلاس میں صدر پوتن اور شی جن پنگ کی ملاقات کی تیاریاں جاری، کریملن مغربی ممالک زوال کا شکار، روس کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں: سرگئی شوئیگو ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کا چارج سنبھال لیا حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے مریم نواز کی پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے 7 اور 11 ماہ بعد ملاقات ہوئی: بیرسٹر سلمان صفدر ڈیزل 7 روپے 76 پیسے اور پٹرول 3 روپے 40 پیسے فی لٹر سستا مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلئے حکومت کو خصوصی اختیارات دے دیے

غیر قانونی موبائل سمز کی خرید و فروخت اور فراڈ کا نیٹ ورک پکڑا گیا

Web Desk

2 November 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی موبائل سمز کی خرید و فروخت اور ان کے ذریعے سنگین نوعیت کے فراڈ کرنے والے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کا بڑا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے ہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اسلام آباد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 11 ملزمان کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران متعدد ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق، یہ ملزمان مبینہ طور پر غیر قانونی اور مشکوک طریقوں سے موبائل سمز حاصل کرنے، انہیں مختلف طریقوں سے ایکٹیویٹ کرنے اور آگے فروخت کرنے میں براہِ راست ملوث تھے۔ ملزمان پر شدید نوعیت کا یہ الزام ہے کہ وہ معصوم شہریوں کی ذاتی شناختی معلومات ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر استعمال کرکے ان کے نام پر نئی موبائل سمز جاری کرواتے تھے، جنہیں بعد ازاں مختلف غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس طرح غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی موبائل سمز کا استعمال کرتے ہوئے جعلی اور فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے جاتے تھے، جن کے ذریعے عوام الناس کو لوٹنے اور مختلف مالیاتی فراڈ کرنے کی کارروائیاں انجام دی جاتی تھیں۔ تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ یہ تمام افراد موبائل سمز کی غیر قانونی رجسٹریشن اور ان کی فراہمی کے ایک بہت بڑے اور منظم نیٹ ورک کا اہم حصہ ہیں۔ ایف آئی آر میں نامزد کیے جانے والے افراد میں عبدالہادی، محسن سلیم بٹ، زہاق، زین، عدیل خان، دانیال، عظمیٰ اور حسن وقار احمد سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ اس مقدمے میں نامزد ملزمان کے زیرِ استعمال واٹس ایپ اکاؤنٹس اور موبائل نمبرز کی تفصیلی معلومات بھی درج کر لی گئی ہیں، جبکہ این سی سی آئی اے نے اس نیٹ ورک کے تمام کارندوں کو بے نقاب کرنے کے لیے مزید گہرائی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔