LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار

جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے بعد ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ

Web Desk

7 March 2026

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں قائم الجفیر فوجی اڈے پر امریکی فوج کو نشانہ بنانے کی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایران کے جزیرہ قشم میں پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر امریکی فوج کی کارروائی کے جواب میں کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی حملے کے نتیجے میں پانی صاف کرنے والا پلانٹ متاثر ہوا جس سے قشم اور اس کے اطراف کے کم از کم تیس دیہات میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائی کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہری سہولت کے منصوبے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول اقدام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کی مثال امریکا نے قائم کی ہے، ایران نے نہیں۔