LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا: عباس عراقچی ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ امریکی اداکارہ سیلما بلیئر نے جہاز میں فضائی عملے کو مکے مارنے و کاٹنے پر معافی مانگ لی پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد، غریب، امیر کا معاشی فرق بڑھ گیا عالمی بینک کی سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کیلئے 15 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری بھارتی تنقید مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کم نہیں کر سکتی: ترک وزیر خارجہ ایران مشرق وسطیٰ کا غنڈہ، مذاکرات کرنا چاہتا، رابطے میں ہے: ٹرمپ طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت جاری، متعدد صوبوں میں حملوں کے دعوے روس اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی حقیقی پیشرفت نہیں ہوئی، سرگئی لاوروف مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید خراب، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہوگئی ایران کے لاوان جزیرے کے قریب جہاز پر حملہ، آگ بھڑک اٹھی

امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی فوجی نیٹ ورک سرگرم، اربوں ڈالر کے سازو سامان کی درآمد

Web Desk

29 October 2026

امریکی اقتصادی پابندیوں اور سخت ترین بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران کا خفیہ فوجی نیٹ ورک بدستور انتہائی سرگرم ہے، اور ایک نئے سنسنی خیز انکشاف کے مطابق اس نیٹ ورک نے اربوں ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان درآمد کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ایران نے پانچ ہزار سے زائد خفیہ فوجی اداروں پر مشتمل ایک انتہائی وسیع اور پیچیدہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے جنوری 2025 سے لے کر جون 2026 کے دوران کم از کم 2 ارب ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان، دھماکا خیز مواد، میزائلوں اور ڈرونز کے پرزے، اور بھاری فوجی ٹرک کامیابی سے درآمد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خفیہ نیٹ ورک امریکی پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے زمینی، سمندری اور فضائی راستوں کے ذریعے ایران کو تمام اہم فوجی سامان مسلسل پہنچاتا رہا ہے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی وزارتِ دفاع سے براہِ راست منسلک یہ تمام ادارے بظاہر بالکل الگ الگ اور نجی ناموں سے کام کرتے ہیں، تاہم ان کے دفتری پتے تہران میں وزارتِ دفاع کے مرکزی پتے ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے متعدد شکوک و شبہات کے حامل اداروں کے براہِ راست روابط پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور ایران کے اہم میزائل و ڈرون پروگرام کے ساتھ بھی پائے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق، زیرِ جائزہ درآمدی لین دین کا 97 فیصد حصہ سرحد پار روایتی بینکنگ کے ذریعے منتقل کرنے کے بجائے بیرونِ ملک مقیم قابلِ اعتماد درمیانی افراد (مڈل مین) کے ذریعے خفیہ طور پر ادا کیا گیا۔ اس متبادل طریقہ کار کی بدولت ایرانی فوجی ادارے بین الاقوامی مالیاتی نگرانی، سسٹمز اور سخت پابندیوں کے دائرے سے بچنے میں مکمل طور پر کامیاب رہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ نیٹ ورک اس وقت ایران کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے جنگی ذخائر دوبارہ بھرنے اور اپنی دفاعی و پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم مدد فراہم کر رہا ہے۔